صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۵ ۸۱ - کتاب الرقاق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سامذ ہب میانہ روی کو پسند کرتا ہے۔وہ یہ نہیں چاہتا کہ انسان دنیا کو بالکل ہی چھوڑ دے۔بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان دنیا بھی کمائے اور دینی کاموں میں بھی حصہ لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک صوفی کا یہ قول بہت پسند ہے کہ "دست در کار و دل بایار “ یعنی اصل طریق یہی ہے کہ انسان دنیا کے کام بھی کرے اور خدا تعالیٰ کو بھی یاد رکھے۔لیکن پرانے لوگوں میں سے بعض نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ دست در کار نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کو ضائع کر دیا اور بعض نے یہ سمجھ لیا کہ دل بایار نہیں ہونا چاہیے صرف دست درکار ہو نا کافی ہے۔گویا دنیا میں دو کیمپ بن گئے۔ایک کیمپ والے دین کو بیکار سمجھنے لگ گئے اور دوسرے کیمپ والے دنیا کو بے کار سمجھنے لگ گئے حالانکہ صداقت ان دونوں کے درمیان درمیان تھی۔صداقت یہ تھی کہ دین کے ساتھ دنیا کی طرف بھی توجہ رکھی جائے اور دنیا سے بالکل ہی منہ نہ موڑ لیا جائے۔" (تفسیر کبیر سورۃ القصص، زیر آیت وابتغ فيما اتك اللهُ السَّارَ الْآخِرَةَ جلدے صفحہ ۵۴۵) جنت کا وارث اعمال کے ذریعے یا فضل الہی سے ؟ اس کا جواب ابن بطال نے دیا ہے کہ جنت میں مختلف مراتب ہیں جو انسان کو اس کے اعمال کی بنیاد پر ملیں گے جبکہ یہ حدیث دخول جنت اور اس میں ہمیشگی سے متعلق ہے۔یعنی جنت میں داخل ہونا خدا کے فضل پر منحصر ہے جبکہ داخل ہونے کے بعد درجات اعمال کی بنیاد پر ملیں گے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۶۳) لَا يُدخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَملُهُ : اس روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کے نزدیک حقیقی نجات اور دائمی کامیابی اور ہمیشہ کی زندگی عمل پر موقوف نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار فضل الہی پر ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ فضل کو جذب کرنے کے لیے عمل ضروری ہے مگر جب تک اللہ تعالیٰ دستگیری نہ کرے اور اس کے فضل کا دست قدرت ساتھ نہ دے کوئی انسان بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں پاسکتا کیونکہ عمل چاہے جتنا بھی ہو بہر حال محدود ہے۔محدود عمل لا محدود زندگی کیسے دے سکتا ہے اس لیے فضل الہی اور قیوم ذات کا سہارا ضروری ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس نبی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ اس نبی کی بیعت بھی خدا تعالیٰ کی بیعت ہے۔وہ یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے سے وہ کام ہو ہی نہیں سکتے جو خد اتعالیٰ کی