صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 234 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 234

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۴ ۸۱ - کتاب الرقاق رح : الْقَصْدُ وَ الْمُدَا وَمَةُ عَلَى الْعَمَلِ: میانہ روی اورمل دوام- الْقَصْدَوَهُوَ السلوك في الطريق المعتدلة، ويُقال القضد استقامة الطريق بين الإفراط والتفريط (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۶۳) یعنی معتدل راہ پر چلنا قصد ہے اور کہا جاتا ہے افراط و تفریط کے درمیان متوسط طریق اختیار کر ناقصد ہے۔الديمة في الأصل المطر المستمر يسكُون بِلا رعد ولا برق، ثم استعمل في غيره۔(عمدۃ القاری، جزء۲۳ صفحہ ۶۵) دیمہ کے اصل معنی مسلسل بارش کے ہیں۔جو پُرسکون ہو جس میں نہ کڑک ہو نہ بجلی، پھر یہ لفظ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا۔امام بخاری نے ابواب کی ترتیب میں باب ہذا اور زیر باب روایات سے اس اصل کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسلامی تعلیم وقتی طور پر جذبات کو ابھار کر کوئی عمل کرانے کا نام نہیں ہے بلکہ جہد مسلسل کا نام ہے۔اسی دوام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے اور آپ کا طرز عمل اور نمونہ بھی یہی تھا۔دنیا میں ناکام لوگوں کی ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ عدم استقلال اور ادھوراپن ہوتا ہے ایسے لوگ اپنی منزل کو نہیں پاسکتے جن میں مستقل مزاجی اور کام جاری رکھنے کی عادت نہ ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تک اعمال میں اِستقلال اور مداومت کا رنگ نہ ہو اُس وقت تک وہ انسان کی روحانی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتے۔کچھ دن تک التزام سے نماز پڑھنا پھر چھوڑ دینا، کچھ دن اصلاح وارشاد کے کام میں جوش دکھانا پھر خاموشی اختیار کر لینا، کچھ دن تک قربانی کرنا اور پھر تھک جانا یہ ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کی روحانی زندگی خطرہ میں ہوتی ہے اور وہ لوگ جو ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جاذب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل پورے طور پر انہیں لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر اعمال بجالاتے ہیں اور اس بات کے محتاج نہیں ہوتے کہ نبی یا خلیفہ اُن کو بار بار توجہ دلائے۔وہ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ کسی بڑے آدمی نے تحریک کی ہے یا کسی چھوٹے آدمی نے ، بلکہ وہ ہر نیک تحریک پر خواہ وہ نبی کی طرف سے ہو یا خلیفہ کی طرف سے ہو یا اُس کے کسی نائب کی طرف سے ہو لبیک کہنے کیلئے تیار رہتے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنتے ہیں۔“ (نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحہ ۱۷۶)