صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 233
صحیح البخاری جلد ۱۵ سمسم ۱ - کتاب الرقاق قَالَ أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (ديني نے) بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ (موسیٰ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ بن عقبہ نے ) یہ حدیث ابوسلمہ سے ابو النضر کے عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا واسطے سے سنی ہے۔ابو سلمہ نے حضرت عائشہ سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ہے۔اور عفان ( بن مسلم ) نے بیان کیا کہ ہم سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا۔وہیب نے بیان کیا انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے روایت کی، کہا کہ میں نے ابو سلمہ سے سنا اور انہوں وَقَالَ مُجَاهِدٌ سَدَادًا سَدِيدًا صِدْقًا۔أطرافه : ٦٤٦٤، ٦٤٦٥ - نے حضرت عائشہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: سنوار کر ٹھیک طور پر عمل کرو اور خوش رہو۔اور مجاہد نے بیان کیا کہ سَدَادًا سَدِيدًا ہر دو کے معنی صدق کے ہیں۔٦٤٦٨: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۴۶٨: ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایا کہ محمد بن فليح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا انہوں نے کہا میرے باپ نے أَبِي عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٌّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مجھے بتایا۔انہوں نے ہلال بن علی سے ، انہوں نے مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُهُ کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہتے ہوئے سنا۔ایک دن رسول اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ ثُمَّ رَقِيَ ہمیں نماز پڑھائی۔پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے الْمِنْبَرَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ اور آپ نے مسجد کے قبلہ کی جانب اپنے ہاتھ سے الْمَسْجِدِ فَقَالَ قَدْ أُرِيتُ الآنَ - اشارہ کیا اور فرمایا: ابھی جبکہ میں نے تمہیں نماز مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ - الْجَنَّةَ پڑھائی، جنت و دوزخ مجھے دکھائی گئیں۔جو اس وَالنَّارَ مُمَثْلَتَيْنِ فِي قُبُلِ هَذَا الْجِدَار دیوار پر تمثل تھیں۔میں نے خیر وشر میں آج کے فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِ دن کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا۔میں نے خیر وشر فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِ۔میں آج کے دن کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا۔أطرافه : ٩٣، ۱٤٠ ،۷۹، ۱۹۲۱، ۶۳۶۲، ۶۴۸۶، ۷۰۸۹، ۷۰۹۰، ۷۰۹۱، ٧٢٩٤،