صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 229 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 229

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۹ ۸۱ - كتاب الرقاق میدے کے گرم گرم اور نرم نرم پھلکے تیار کر کے آپ کے سامنے لائے گئے تو آپ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک لقمہ توڑا اور اپنے منہ میں رکھ لیا مگر وہ لقمہ ابھی آپ نے اپنے منہ میں ڈالا ہی تھا کہ آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ نے اپنے منہ ڈالا کہ کی سے آنسو گرنے لگے دیکھنے والی عورتیں حیران رہ گئیں کہ آپ کے آنسو کیوں گرنے لگے ہیں۔ چنانچہ کسی نے آپ سے پوچھا خیر تو ہے کیسی عمدہ اور نرم روٹی ہے اور آپ کے گلے میں پھنس رہی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میرے گلے میں یہ روٹی اپنی خشکی کی وجہ سے نہیں پھنسی بلکہ اپنی نرمی کے باعث پھنسی ہے ۔ رنج کے واقعات نے مجھے رنجیدہ نہیں کیا بلکہ خوشی کی گھڑیوں نے مجھے افسردہ بنا دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے انہی کی برکت سے آج یہ نعمتیں ہمیں میسر ہیں مگر آپ کا یہ حال تھا کہ مدتوں گھر میں آگ نہیں جلتی تھی اور اگر روٹی پکتی بھی تو اس طرح کہ ہم سل بٹہ پر غلہ پیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اُڑا کر روٹی پکا لیا کرتے ۔ مجھے خیال آتا ہے کہ یہ نعمتیں جس کے طفیل ہمیں میسر آئی ہیں وہ تو آج ہم میں نہیں کہ ہم یہ نعمتیں اس کے سامنے پیش کرتے اور دولتیں اس کے قدموں پر نثار کرتے لیکن ہم جن کا ان کامیابیوں کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ خیال تھا جس نے مجھے تڑپا دیا اور جس کی وجہ سے میدے کا نرم نرم لقمہ بھی میرے گلے میں پھنس گیا۔“ ( تفسير كبير ، سورة الشمس، زیر آیت وَاليْلِ إِذَا يَغْشَهَا جلد ۹، صفحہ ۱۶، ۱۷) سميطاً : بھنی ہوئی بکری، ذبح کرنے کے بعد بکری کی کھال اور اون گرم پانی کے ذریعہ اتارنے کے بعد اس کو اسی طرح بھنا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۶۱، ۶۲) منا: یہ لفظ منيحة کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایسی اونٹنی یا بکری جو کسی شخص کو دودھ کے استفادہ کے لیے (عارضی طور پر دی جائے کہ بعد ازاں وہ اسے واپس لوٹا دے گا۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۶۲) باب ۱۸ : الْقَصْدُ وَالْمُدَاوَمَةُ عَلَى الْعَمَلِ میانہ روی اور عمل دوام ٦٤٦١ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبِي ۶۴۶۱: عبدان ( بن عثمان بن جبلہ ) نے ہم سے