صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 228 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 228

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۸ ۸۱ - كتاب الرقاق حضرت ابو ہریرہ فتوحات کے زمانہ میں مصر کے گورنر بھی بنا دیئے گئے تھے۔" (نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کیے جاتے ہیں، انوار العلوم، جلد ۱۰صفحہ ۶۰۰،۵۹۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صحابہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات انہوں نے غذا نہ ہونے کی وجہ سے جنگلی جانوروں کی طرح درختوں کے پتے کھا کھا کر گزارہ کیا اور بعض نے سوکھے ہوئے چھڑے کو پانی میں صاف اور نرم کر کے بھون کر کھالیا۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی یہ حالت ہوتی تھی کہ بھوک کی وجہ سے ان کے رونے اور چیخنے کی آواز میں دور دور تک سنائی دیتی تھیں اور یہ تکلیف کوئی ہفتہ دو ہفتہ یا مہینہ دو مہینہ کے لئے نہ تھی بلکہ ایک لمبے عرصہ کے لئے تھی اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ صحابہ کہتے ہیں بجائے پاخانہ کے ہم مینگنیاں کرتے تھے مگر دونوں فریق اپنی اپنی ہٹ پر قائم تھے۔ایک طرف یہ ضد تھی کہ اسلام ہمارے سامنے سرنگوں ہو جائے اور دوسری طرف استقلال کا یہ عالم تھا کہ وہ کہتے تھے کہ چاہے اس رستہ میں ہماری جانیں بھی کیوں نہ چلی جائیں ہم اپنے منصب کو ترک نہیں کر سکتے۔“ رسول کریم ملی کم کی زندگی کے تمام اہم واقعات۔۔۔انوار العلوم، جلد ۱۹، صفحه ۱۵۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہی اثر تھا جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک دفعہ ایسار لایا کہ میدہ کے نرم نرم پھلکے کا ایک لقمہ تک ان کے گلے سے نیچے اتر نا مشکل ہو گیا۔جب کسری کو شکست ہوئی اور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو ان میں کچھ ہوائی چکیاں بھی تھیں جن سے باریک آٹا پیسا جاتا تھا اس سے پہلے مکہ اور مدینہ کے رہنے والے سل بٹہ پر دانوں کو پیس لیا کرتے اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔جب مدینہ میں ہوائی چکیاں آئیں اور ان سے باریک میدہ تیار کیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ پہلا آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیا جائے تاکہ سب سے پہلے آپ ہی اس آٹے کی نرم نرم روٹی کھائیں۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش ہوا۔آپ نے ایک عورت کو دیا کہ وہ اسے گوندھ کر روٹی تیار کرے۔جب