صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 227 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 227

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۷ ۱ - کتاب الرقاق ٦٤٦٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۶۴۶۰: عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ محمد بن فضیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے رَضِيَ - عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ باپ سے، ان کے باپ نے عمارہ (بن قعقاع ) اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ سے، عمارہ نے ابوزرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْزُقْ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے : آلَ مُحَمَّدٍ قُوتًا۔اے اللہ ! محمد کی آل کو اتنی روزی دے جتنی کہ ضروری ہے۔شريح : كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِهِ وَتَخَلّيهِمْ عَنِ الدُّنْيَا بی صلی الہ علیہ وسل اور آپ کے صحابہ کس طرح زندگی بسر کرتے تھے اور اُن کی دنیا سے کنارہ کشی کی کیا کیفیت تھی۔امام بخاری نے باب نمبر 9 سے باب نمبر ۶ ا تک دنیا کی حرص و ہوا اور چمک دمک کے مضامین کو ایک ترتیب سے بیان کرتے ہوئے اسلامی تعلیم کے اس حسن کو پیش کیا ہے کہ دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود ہر ایک کو اپنا غلام نہیں بنا سکتی اس تسلسل میں دل کے غنی اور فقر و فاقہ کی فضیلت بیان کرنے کے بعد اسلامی تعلیم کے نمونوں کی ایک جھلک دکھائی ہے کہ اسلام جس تعلیم کی طرف بلاتا ہے اس کی حکمتوں کے بیان کے ساتھ عملی نمونوں سے یہ ثابت کرتا ہے کہ آنحضرت کی قوت قدسیہ نے دلوں کو کس طرح پاک کیا اور آپ کی صحبت نے صحابہ کے اندر ایک انقلاب پیدا کر دیا اور پیشگوئیوں کے مطابق جب ان کو دنیا کے مال اور دولتیں ملیں تو ان دولتوں کی ان کی نظر میں کوڑی کی حیثیت نہ تھی۔زیر باب روایات میں اس کے چند نمونے پیش کیے گئے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حضرت ابوہریرہ کو دیکھو۔فتوحات کے زمانہ میں ایک دن ریشمی رومال میں تھوک کر کہنے لگے۔واہ واہ ابو ہریرہ ایک وہ زمانہ تھا کہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو جانے پر لوگ مرگی کے خیال سے جو تیاں مارا کرتے تھے اور ایک یہ زمانہ ہے ریشمی رومالوں میں تھوکتے ہو۔یہ واقعہ سنا کر حضرت ابو ہریرہ فرمانے لگے اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد آگیا کہ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ میرا یہ حال تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ جب خدا نے فضل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق فتوحات ہوئیں اور میں ایران کے بادشاہ کے رومال میں تھوکتا ہوں۔