صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 226 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 226

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۶ ۸۱ - كتاب الرقاق حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنِي ( بن قطان) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ) أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے ہم سے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ نے خبر قَالَتْ كَانَ يَأْتِي عَلَيْنَا الشَّهْرُ مَا دی۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نُوقِدُ فِيهِ نَارًا إِنَّمَا هُوَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ روایت کی۔ فرماتی تھیں: ہم پر کبھی مہینہ گزر جاتا کہ جس میں ہم آگ نہ جلاتے یہی کھجوریں اور إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللُّحَيْمِ۔ أطرافه : ٢٥٦٧، ٦٤٥٩- پانی ہوتا سوائے اس کے کہ ہمارے پاس کچھ تھوڑا سا گوشت آجاتا۔ ٦٤٥٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ ۶۴۵۹: عبدالعزیز بن عبد اللہ اویسی نے ہم سے اللهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ بیان کیا کہ (عبدالعزیز) ابن ابی حازم نے مجھے عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے ، اُن کے باپ نے عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ يزيد بن رومان سے، یزید نے عروہ بن زبیر) سے، ابْنَ أُخْتِي إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی انہوں نے ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوقِدَتْ عروہ سے کہا: میرے بھانجے ! ہماری تو ایسی حالت فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تھی کبھی دو مہینے گزر جاتے اور ہم تیسرا چاند بھی وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ مَا كَانَ يُعِيدُكُمْ دیکھ لیتے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہ سلگائی جاتی۔ میں نے پوچھا: آپ کا گزارا کس سے ہوتا؟ کہنے لگیں: یہ دو کالی چیزیں قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کھجوریں اور پانی۔ ہاں ہ بھی تھا کہ سول اللہصلی اللہ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُمْ علیہ وسلم کے کچھ لے کچھ انصاری پڑوسی تھے ان کی دو دھیل مَنَائِحُ وَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللهِ اونٹنیاں ہوتیں اور وہ اپنے گھروں سے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْيَاتِهِمْ صلى الله علیہ وسلم کو دودھ بھیج دیا کرتے ۔ دودھ تھے اور آپ قَالَتِ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنَّهُ فَيَسْقِينَاهُ۔ أطرافه : ٢٥٦٧ ، ٦٤٥٨ - ہم سب کو وہی پلاتے۔