صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 223
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۳ ۱ - کتاب الرقاق انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حاضر ہوں یارسول اللہ ! فرمایا: یہ لو اور ان کو دو۔وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ فَأَخَذَ ( کہتے تھے۔) میں نے وہ پیالہ لیا اور ایک آدمی کو الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَنَظَرَ إِلَيَّ وہ دیتا اور وہ پیتا یہاں تک کہ سیر ہو جاتا۔پھر وہ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ أَبَا هِرٌ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا پیالہ مجھے واپس دے دیتا۔پھر میں دوسرے رَسُولَ اللهِ قَالَ بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ آدمی کو دیتا اور وہ بھی اتنا پیتا کہ سیر ہو جاتا۔پھر وہ مجھے پیالہ واپس دے دیتا۔پھر اگلا سیر ہو کر پیتا اور وہ پیالہ مجھے واپس کر دیتا یہاں تک کہ آخر میں قُلْتُ صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ اقْعُدْ فَاشْرَبْ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور وہ سب لوگ فَقَالَ اشْرَبْ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ اشْرَبْ حَتَّى قُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ سیر ہو چکے تھے۔آپ نے وہ پیالہ لیا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ فَأَرِنِي فرمایا: ابا ہر ! میں نے کہا: حاضر ہوں یا رسول اللہ ! فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى آپ نے فرمایا: میں اور تم باقی رہ گئے۔میں نے کہا: وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ۔أطرافه : ٥٣٧٥، ٦٢٤٦ - یا رسول اللہ ! آپ نے سچ فرمایا۔آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور پیو۔میں بیٹھ گیا اور میں نے پینا شروع کیا۔آپ نے فرمایا اور پیو۔میں نے اور پیا۔آپؐ یہی فرماتے رہے اور پیو ( اور میں نے اتنا پیا ) آخر میں نے کہا: اب نہیں۔اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں اب اس کے لئے راستہ نہیں پاتا جس میں اس کو اُتاروں۔آپ نے فرمایا: مجھے دکھاؤ۔تو میں نے وہ پیالہ آپ کو دے دیا۔آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا نام لیا اور وہ بچا ہوا دودھ پی لیا۔٦٤٥٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۴۵۳: مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ یجی (قطان)