صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 222 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 222

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۲ ۸۱ - کتاب الرقاق لِي قَالَ وَأَهْلُ الصُّفَةِ أَضْيَافُ دودھ کا ایک پیالہ پایا۔آپ نے پوچھا: یہ دودھ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ عَلَى أَهْلِ وَلَا مَالِ کہاں سے (آیا) ہے ؟ گھر والوں نے کہا: فلاں وَلَا عَلَى أَحَدٍ إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ شخص نے یا کہا فلاں عورت نے آپ کو یہ ہدیہ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا بھیجا ہے۔آپ نے فرمایا: اباہر ! میں نے کہا: حاضر وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَأَصَابَ ہوں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا: اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ۔کہتے تھے مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا فَسَاءَنِي ذَلِكَ اور اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان ہوتے نہ گھر بار فَقُلْتُ وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ تھا کہ وہاں جاکر آرام کرتے اور نہ کوئی ایسا تھا کہ الصُّفَةِ كُنْتُ أَحَقُّ أَنْ أُصِيبَ مِنْ جس کے پاس جا کر وہ رہتے۔جب آپ کے پاس هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةٌ أَتَقَوَّى بِهَا فَإِذَا کوئی صدقہ آتا تو آپ اُن کو بھیج دیتے اور خود اس جَاؤُوا أَمَرَنِي فَكُنْتُ أَنَا أُعْطِيهِمْ وَمَا میں سے کچھ نہ لیتے اور جب آپ کے پاس کوئی عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ بدیہ آتا تو اُن کو بلا بھیجتے اور اس میں سے خود بھی يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ کچھ لیتے اور اس میں انہیں بھی شریک کرتے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدِّ فَأَتَيْتُهُمْ مجھے ان کا یہ بلانا بر الگا میں نے کہا: اہل صفہ کے فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ سامنے یہ اتنا سا دودھ کیا چیز ہے ؟ میں زیادہ حقدار لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ تھا کہ میں اس دودھ سے کچھ پیتا کہ جس سے مجھے میں طاقت آتی اگر وہ آگئے تو آپ مجھے حکم دیں قَالَ يَا أَبَا هِرٌ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ گے اور مجھے اُن کو دینا ہی ہو گا اور اُمید نہیں کہ اس دودھ سے مجھ تک کچھ پہنچے اور اللہ اور اس کے اللهِ قَالَ خُذْ فَأَعْطِهِمْ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے کچھ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ چارہ نہ تھا۔آخر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى وہ چلے آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔آپ يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ نے ان کو اجازت دی اور وہ گھر میں اپنی اپنی حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى جگہ پر بیٹھ گئے۔آپ نے فرمایا: ابا ہر ! میں نے کہا: