صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 220 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 220

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲۰ - کتاب الرقاق شریح : فَضْلُ الْفَقْی درویشانہ زندگی کی فضیلت۔زیر باب روایات میں حرص دنیا سے پاک ہونے والے ان صحابہ کے واقعات بیان کر کے امام بخاری نے اسلامی تعلیم کے عملی نمونے دکھائے ہیں کہ یہ صرف کہنے کی باتیں نہیں ہیں بلکہ زندہ ثبوت ہیں اس تعلیم کے اور یہی وہ تزکیہ نفوس ہے جو آنحضرت صلی اللہ ہم نے صحابہ کا فرمایا۔نمرة: هي إزار من صوف مخطط أو برده۔اون کی دھاری دار تہبند یا چادر کو کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء۲۳ صفحہ ۵۶) خوان: هُوَ مَا يُؤْكُل عَلَيْهَا الطَّعَام عِند أهل التنعم ويجمع على خون وأخونة خوان وہ چیز جس پر امیر لوگ بیٹھ کے کھانا کھاتے ہیں۔اس کی جمع مخون اور آنھونہ ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۵۷) حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صاحب فرماتے ہیں: اُحد کے شہداء میں ایک صاحب مصعب بن عمیر تھے۔یہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے۔زمانہ جاہلیت میں مُصْعَب مکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوش پوش اور بانکے سمجھے جاتے تھے اور بڑے ناز و نعمت میں رہتے تھے۔اسلام لانے کے بعد ان کی حالت بالکل بدل گئی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ان کے بدن پر ایک کپڑا دیکھا۔جس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔آپ کو ان کا وہ پہلا زمانہ یاد آگیا تو آپ چشم پر آب ہو گئے۔احد میں جب مصعب شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ جس سے ان کے بدن کو چھپایا جا سکتا۔پاؤں ڈھانکتے تھے تو سر ننگا ہو جاتا تھا اور سر ڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سر کو کپڑے سے ڈھانک کر پاؤں کو گھاس سے چھپادیا گیا۔“ (سیرت خاتم النبیین مل اللون ، صفحہ ۵۶۵،۵۶۴) بَابِ ۱۷: كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَتَخَلَّيهِمْ عَنِ الدُّنْيَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کس طرح زندگی بسر کرتے تھے اور اُن کی دنیا سے کنارہ کشی کی کیا کیفیت تھی ٦٤٥٢ : حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ بِنَحْو مِنْ ۶۴۵۲: ابو نعیم نے مجھ سے یہ حدیث آدھی کے