صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 219
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۹ ۸۱ - کتاب الرقاق فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ تَابَعَهُ ہی تھے اور میں نے آگ میں جھانک کر دیکھا تو أَيُّوبُ وَعَوْفٌ وَقَالَ صَخَرٌ وَحَمَّادُ اکثر اس کے رہنے والے عورتیں ہی تھیں۔(سلم بْنُ نَجِيحٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس بن زریر کی طرح) ایوب اور عوف (اعرابی) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا اور صخر بن جویریہ) أطرافه : ٣٢٤١، 5198، 6546۔اور حماد بن بیج نے بھی ابور جاء سے، ابور جاء نے حضرت ابن عباس سے اسے نقل کیا۔٦٤٥٠: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۴۵۰: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔سعید بن ابی عروبہ نے ہم سے بیان أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ کیا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَأْكُلْ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِوَانٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان (میز ) پر نہیں کھایا۔حَتَّى مَاتَ وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَفَّقًا یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے اور نہ ہی باریک چپاتی کھائی۔یہاں تک کہ آپ وفات پاگئے۔حَتَّى مَاتَ۔أطرافه : ۵۳۸۵، ٥۳۸۶، ٦٤٥٧،٥٤٢١،٥٤١٥۔٦٤٥١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۶۴۵۱: عبد اللہ بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ہشام نے ہم سے بیان أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے قَالَتْ لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَبِّي مِنْ شَيْءٍ میرے توشہ خانہ میں کچھ بھی نہ تھا جسے کوئی زندہ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي وجود کھاتا مگر کچھ تھوڑے جو ، جو میرے توشہ خانہ رَبِّ لِي فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ میں تھے میں وہی کھاتی رہی یہاں تک کہ اتنی مدت گزر گئی کہ آخر میں نے ان کو ماپا اور وہ ختم فَكِلْتُهُ فَفَنِي۔ہو گئے۔طرفه: ۳۰۹۷۔