صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 217 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 217

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۷ ۸۱ - کتاب الرقاق بَابِ ١٦: فَضْلُ الْفَقْرِ درویشانہ زندگی کی فضیلت ٦٤٤٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۶۴۴۷: اسماعیل (بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بیان کیا۔انہوں نے کہا عبد العزیز بن ابی حازم أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِي نے مجھے بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے أَنَّهُ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ باپ نے حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسِ مَا رَأْبُكَ فِي هَذَا فَقَالُ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آپ نے ایک شخص سے جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا پوچھا۔اس شخص رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ هَذَا وَاللَّهِ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: یہ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ شخص بڑے لوگوں میں سے ہے۔یہ اللہ کی قسم أَنْ يُشَفِّعَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو نکاح کر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ دیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ قبول کی جائے۔حضرت سہل کہتے تھے یہ سن کر وَسَلَّمَ مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا فَقَالَ يَا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔پھر رَسُولَ اللهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ ایک اور شخص گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الْمُسْلِمِينَ هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ اس سے پوچھا: اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے لَا يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ وَإِنْ ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ درویش مسلمانوں قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ میں سے ہے یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ سنی جائے اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن جیسے آدمیوں سے زمین بھی بھر جائے تو یہ شخص اُن سے بہتر ہے۔اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِنْ مِثْلِ هَذَا۔طرفه: ٥٠٩١۔