صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 216
صحیح البخاری جلد ۱۵ مِنْ أَنْ يَعْمَلُوهَا ۔ ۲۱۶ ۸۱ - كتاب الرقاق ہے کہ جنہیں انہوں نے نہیں کیا، ضرور ہے کہ وہ انہیں کریں۔ ٦٤٤٦ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۶۴۴۶ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابو بکر حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ (بن عیاش) نے ہمیں بتایا۔ ابو حصین نے ہم سے عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ بیان۔ انہوں نے ابو صالح سے، ابو صالح نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی العلیم سے روایت کی آپؐ نے فرمایا: تونگری لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ بہت مال و اسباب سے نہیں۔ عینی وہ ہے جو دل کا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ۔ : غنی ہو ۔ تشريح الغنى على النفس : علی وہ ہے جو دل کا غنی ہو۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ت کہتے ہیں ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا۔ راستہ میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔ اُس نے اُس سے پوچھا کہ سائیں جی کیا حال ہے؟ فقیر نے اُسے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو گئی ہوں۔ اس کا حال کیسا ہوتا ہے ؟ اُسے تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مرادیں کس طرح حاصل ہو گئی ہیں۔ فقیر نے کہا جب ساری مرادیں ترک کر دیں، تو گویا سب حاصل ہوگئیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے۔ لیکن جب قناعت کر کے سب کو چھوڑ دے، تو گویا سب کچھ ملنا ہوتا ہے۔ نجات اور مکتی یہی ہے کہ لذت ہو دکھ نہ ہو۔ دُکھ والی زندگی تو نہ اس جہان کی اچھی ہوتی ہے اور نہ اس جہان کی۔ جو لوگ محنت کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں، وہ گویا اپنی کھال اتارتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ زندگی تو بہر حال ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ برف کے ٹکڑہ کی طرح ہے خواہ اس کو کیسی ہی صندوقوں اور کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو، لیکن وہ پگھلتی ہی جاتی ہے۔ اسی طرح پر خواہ زندگی کے قائم رکھنے کی کچھ بھی وہ ہے۔ اس طرح خواہ کے قائم ناہی ہے۔ تدبیریں کی جاویں۔ لیکن یہ سچی بات ہے کہ وہ ختم ہوتی جاتی ہیں۔“ (ملفوظات، جلد ۲ صفحہ ۳۲۶)