صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 214 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 214

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۴ ۸۱ - کتاب الرقاق أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ عبيد الله بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔رسول اللہ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے لئے اُحد تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ برابر بھی سونا ہو تو مجھے ضرور یہی بات خوشی دے شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنِ۔گی کہ مجھ پر تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ اس میں سے کچھ بھی میرے پاس موجود ہو مگر جو میں قرضہ أطرافه : ۲۳۸۹، ۷۲۲۸- چکانے کے لئے رکھ چھوڑوں۔تشريح۔قَوْلُ النّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا: بي صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے اس اُحد کے برابر سونا ہو۔عنوانِ باب کے الفاظ اور زیر باب حدیث میں اس سے پہلے باب کی عملی تفسیر بتائی گئی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔کثرت مال فی ذاتہ نہ منع ہے نہ مذموم ہے بلکہ بہت مستحسن ہے اگر ان اموال کو خلق خدا کی ضرورتوں میں خرچ کیا جائے۔اس نیت اور خواہش سے اگر کوئی پہاڑوں برابر اموال بھی حاصل کرے تو یہ مستحسن ہے کیونکہ اس کے پاس جتنے زیادہ اموال ہوں گے وہ اتنے ہی زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنا کام ہی یہ بتایا ہے الله المُعْطِ وَأَنَا القَاسِم کہ خدا دیتا جاتا ہے اور میں تقسیم کرتا جاتا ہوں۔ایک دفعہ آپ نے ایک شخص کو اتنامال دیا کہ وہ حیران رہ گیا اور اس نے اپنی قوم کو بتایا کہ وہ شخص اس طرح مال خرچ کرتا ہے کہ اسے مال کے ختم ہونے کا کوئی خوف نہیں۔کے ایک عورت نے آپ کی سخاوت اور عطاء کو دیکھا تو اپنے قبیلے میں جاکر کہنے لگی: لَقِيتُ أَسْحَرَ النَّاسِ أَوْ هُوَ لَى كَمَا زَعَمُوا فَهَدَى اللهُ ذَاكَ القزم يتلكَ المَرْأَةِ فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا میں ایسے شخص سے ملی ہوں جو سب لوگوں سے بڑھ کر جادو گر ہے یا وہ نبی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔پھر اللہ نے اس عورت کے طفیل اس قبیلہ کو ہدایت دی اور وہ بھی مسلمان ہو گئی اور اس (قبیلہ) کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔وہ سچا نبی ہے اللہ نے اس عورت کے ذریعہ انہیں ہدایت دی۔(صحیح البخاری، کتاب المناقب، بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلَامِ روایت نمبر ۳۵۷۱) (صحيح البخاری، کتاب فرض الخمس بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالَى فَأَنَّ لِلَّهِ مُمسَهُ وَالرَّسُولِ، روایت نمبر ۳۱۱۶) (مجمع الزوائد، كتاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ، بَاب فِي جُودِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جلد ۹ صفحه (۱۳)