صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 213 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 213

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۳ ۸۱ - كتاب الرقاق وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ۔أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ آواز سنی جو بلند ہوگئی میں ڈرا کہ کہیں نبی صلی اللہ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْنًا تَخَوَّفْتُ فَذَكَرْتُ علیہ وسلم سے کوئی حادثہ پیش نہ آیا ہو۔میں نے چاہا لَهُ فَقَالَ وَهَلْ سَمِعْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ کہ آپ کے پاس جاؤں مگر میں نے آپ کی اُس ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ بات کا خیال کیا جو آپ نے مجھ سے کہی تھی کہ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ جب تک میں نہ آجاؤں یہاں سے جانا نہیں اس الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ لئے جب تک آپ میرے پاس آنہیں گئے وہاں سے ہٹا نہیں۔میں نے کہا۔یا رسول اللہ ! میں نے ایک آواز سنی تھی جس سے میں بہت ڈر گیا اور میں نے اس بات کا ذکر کیا جس کی وجہ سے میں آپ کے پاس نہ گیا تھا۔آپ نے فرمایا کیا تم نے بھی وہ آواز سنی؟ میں نے کہا۔ہاں۔آپ نے فرمایا: وہ جبریل تھے میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: جو تیری اُمت میں سے ایسی ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے جنت میں داخل ہو گا۔میں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو ؟ انہوں نے کہا: گو اس نے زنا کیا ہو اور گو اس نے چوری کی ہو۔أطرافه : ۱۲۳۷، ۱۴۰۸، ۲۳۸۸، ۳۲۲۲، ٥۸۲۷، ٦٢٦٨، ٦٤٤٣، ٧٤٨٧۔٦٤٤٥: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ :۶۴۴۵: احمد بن شبیب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ وَقَالَ اللَّيْثُ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سے روایت کی اور لیث نے کہا: مجھے یونس نے عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے