صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 212
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۲ ۱ - کتاب الرقاق حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ ابو الاحوص نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍ اعمش نے زید بن وہب سے روایت کی انہوں نے كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہا۔حضرت ابوذر کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھر یلے میدان میں چلا فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٌ قُلْتُ جا رہا تھا کہ اتنے میں اُحد ہمارے سامنے ہوا۔لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مَا يَسُرُّنِي آپ نے فرمایا: ابوذر ! میں نے کہا۔حاضر ہوں یا عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا۔مجھے یہ بات خوش تَمْضِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ نہیں کرتی کہ میرے پاس اس اُحد جتنا سونا ہو اور إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنِ إِلَّا أَنْ أَقُولَ تیری رات مجھ پر گزر جائے اور اس میں سے بِهِ فِي عِبَادِ اللهِ هَكَذَا وَهَكَذَا میرے پاس ایک دنیار بھی موجود ہو۔سوائے کچھ (سونے) کے جو میں نے قرض چکانے کے لئے أَنَّ وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ثُمَّ مَشَى ثُمَّ قَالَ إِنَّ رکھ چھوڑا ہو بلکہ میں ضرور ہی اللہ کے بندوں میں اسے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْمُقِلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خرچ کر دوں یعنی اپنے دائیں اور اپنے بائیں اور إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا اپنے پیچھے۔پھر آپ چلے گئے اور فرمایا: وہ جو بہت عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ الدّار ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ثُمَّ قَالَ لِي مَكَانَكَ لَا گے۔مگر وہ نہیں جو اس طرح اور اس طرح اور تَبْرَحْ حَتَّى آتِيكَ ثُمَّ انْطَلَقَ في اس طرح خرچ کرے یعنی اپنے دائیں اور اپنے سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى فَسَمِعْتُ بائیں اور اپنے پیچھے اور وہ بہت ہی تھوڑے ہیں صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اپنی اس جگہ ٹھہر و أَحَدٌ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں یہاں سے وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَتَذَكَّرْتُ جاتا نہیں۔یہ کہہ کر آپ رات کی تاریکی میں چلے قَوْلَهُ لِي لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ فَلَمْ گئے اور نظر سے اوجھل ہو گئے۔پھر میں نے ایک