صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 211
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۱ ۸۱- كتاب الرقاق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اب یا درکھنا چاہیے کہ کلمہ جو ہم ہر روز پڑھتے ہیں اس کے کیا معنے ہیں؟ کلمہ کے یہ معنی ہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کہ میرا معبود، محبوب اور مقصود خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں۔ اللہ کا لفظ محبوب اور اصل مقصود اور معبود کے لئے آتا ہے۔ یہ کلمہ قرآن شریف کی ساری تعلیم کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے ۔ چونکہ ایک بڑی اور مبسوط کتاب کا یاد کرنا آسان نہیں۔ اس لیے یہ کلمہ سکھا دیا گیا تا کہ ہر وقت انسان اسلامی تعلیم کے مغز کو مد نظر رکھے اور جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہ ہو جاوے۔ سچ یہی ہے کہ نجات نہیں۔ اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس نے صدق دل سے لا إله إلا الله کو مان لیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ لوگ دھوکہ کھاتے ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طوطے کی طرح لفظ کہہ دینے سے انسان جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اگر اتنی ہی حقیقت اس کے اندر ہوتی تو پھر سب اعمال بے کار اور نکمے ہو جاتے اور شریعت من ( معاذ اللہ ) لغو ٹھہرتی نہیں بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ مفہوم جو اسی میں رکھا گیا ہے وہ عملی رنگ میں انسان کے دل میں داخل ہو جاوے۔ جب یہ بات پیدا ہو جاتی ہے تو ایسا انسان فی الحقیقت جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ نہ صرف مرنے کے بعد بلکہ اسی زندگی میں وہ جنت میں ہوتا ہے۔ یہ سچی بات ہے اور جلد سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کا کوئی محبوب اور مقصود نہ رہے تو پھر کوئی دُکھ یا تکلیف اُسے ستاہی نہیں سکتی۔ یہ وہ مقام ہے جو ابدال اور قطبوں کو ملتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۹۰،۸۹) بَاب ١٤ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذا ذَهَبًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے اس اُحد کے برابر سونا ہو ٦٤٤٤ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ۶۴۴۴: حسن بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ