صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 210 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 210

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱۰ ۱- کتاب الرقاق حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ هَذَا إِذَا مَاتَ مرسل ہے صحیح نہیں۔ ہم نے صرف چاہا کہ وہ بھی قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ۔ معلوم ہو جائے اور صحیح حضرت ابوذر کی حدیث ہے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) سے پوچھا گیا عطاء بن پیار کی حدیث جو اُنہوں نے ابو درداء سے روایت کی انہوں نے کہا: وہ بھی مرسل ہے صحیح نہیں اور صحیح حضرت ابوذر کی حدیث ہے اور انہوں نے کہا۔ ابو درداء کی حدیث کو نظر انداز کرو یعنی یہ حدیث جب وہ مرنے لگے تو موت کے وقت لا إِلَهَ إِلَّا الله کہے۔ أطرافه : ۱۲۳۷ ، ۱۴۰۸، ۲۳۸۸، ۳۲۲۲، ٥٨٢٧، ٦٢٦٨، ٦٤٤٤، ٧٤٨٧۔ تشريح الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُونَ: جتنے زیادہ مال دار ؟ الْمُقِلُونَ : جتنے زیادہ مال دار ہیں وہی زیادہ نادار ہوں گے۔ زیر باب آیات مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَطِلُّ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) ا يعملون (هود: ۱۶، ۱۷) جو اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہوں تو ہم ان کو ان کی محنتوں کا بدلہ جو انہوں نے اس کے حاصل کرنے کے لئے کی ہیں پورا پورا دیں گے اور انہیں اس میں کم نہیں دیا جائے گا۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں اور دنیا میں جتنے کام انہوں نے کئے وہ سب رائیگاں گئے اور بے حقیقت ہے جو وہ کر رہے تھے۔ میں بتایا ہے کہ جو دنیاوی مالوں کو ہی اپنا اصل مطلوب اور منزل بنا لیتے ہیں اس دنیا میں تو ان کو مال بکثرت مل جائیں گے مگر آخرت میں وہ تہی دامن ہوں گے تو اس عارضی دنیا کے مال کا کیا فائدہ؟ جب دائمی زندگی میں انسان تہی دامن ہو اس لیے قرآن کریم نے دعا سکھائی رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ: ۲۰۲) اے ہمارے رب ہمیں (اس) دنیا ( کی زندگی) میں (بھی) کامیابی دے اور آخرت میں (بھی) کامیابی (دے) اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ : جو ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔ زیر باب حدیث میں لا يُشْرِكُ بِالله شَيْئًا فرمایا ہے۔ ”شَيْئًا “ سے ہر قسم کے شرک کی نفی کی گئی ہے۔ نفی کمال ہو تو جنت کی بشارت ہے اگر شرک کی کوئی بھی تیرگی ہو تو وہ جنت کی راہ میں سید راہ بن جائے گی۔ کامل مواحد بن جائے تو گذشتہ گناہ کے بد اثرات سے بھی اُسے بچا لیا جائے گا۔ جیسے فرما یا من مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ (روایت نمبر ۶۴۴۳)