صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 209
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۰۹ ۱ - کتاب الرقاق لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ يَا نَبِيَّ الله میرے پاس آنے میں دیر کی اور بہت ہی دیر کی۔جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي پھر میں نے آپ سے سناجب کہ آپ آرہے تھے جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ اور آپ یہ فرما رہے تھے۔گو اس نے چوری کی ہو إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ اور گو اس نے زنا کیا ہو۔حضرت ابوذر کہتے تھے۔السَّلَامُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ جب آپ آئے تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے پوچھا۔قَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا اے اللہ کے نبی ! اللہ مجھے آپ کے قربان کرے يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ اس میدان کے ایک طرف کون باتیں کر رہا تھا؟ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ میں نے تو کسی کو نہیں سنا کہ آپ کو کچھ جواب دیتا ہو؟ آپ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى حرہ کے کنارے میں میرے سامنے آئے اور کہا: قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى اپنی اُمت کو بشارت دو کہ جو ایسی حالت میں مر قَالَ نَعَمْ۔جائے کہ وہ اللہ کا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراتا ہوگا تو قَالَ النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَدَّثَنَا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔میں نے کہا: جبریل! حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ وَالْأَعْمَسُ اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور اگر چہ اس نے زنا وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ کیا ہو۔انہوں نے کہا: ہاں۔(حضرت ابوذر کہتے تھے) میں نے بھی کہا۔اگر چہ اس نے چوری کی وَهْبٍ بِهَذَا۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ ہو اور اگر اس نے زنا کیا ہو ؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ لَا يَصِحُ إِنَّمَا نفر ( بن شمیل) نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے بتایا کہ ( أَرَدْنَا لِلْمَعْرِفَةِ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي حبيب بن ابی ثابت اور اعمش اور عبد العزیز بن ذَرٍ قِيلَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثُ عَطَاءِ رفع نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ ہمیں یہی بتایا۔مُرْسَلٌ أَيْضًا لَا يَصِحُ وَالصَّحِيحُ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: ابو صالح کی حَدِيثُ أَبِي ذَرٍ وَقَالَ اضْرِبُوا عَلَى حديث جو اُنہوں نے ابو درداء سے روایت کی