صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 208 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 208

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۰۸ ۸۱ - كتاب الرقاق حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جریر بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے رُفَيْعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍ عبد العزیز بن رفیع سے، عبد العزیز نے زید بن اللهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ وہب سے، زید نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی انہوں نے کہا: میں ایک رات جو نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ وَلَيْسَ مَعَهُ اکیلے جارہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی آدمی إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ نہیں۔کہتے تھے: میں نے سمجھا کہ آپ ناپسند يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَمْشِي کرتے ہوں کہ آپ کے ساتھ کوئی چلے۔فِي ظِلِ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ تھے: میں چاند کے سایہ میں چلنے لگا۔آپ جو مَنْ هَذَا قُلْتُ أَبُو ذَرٍ جَعَلَنِي اللهُ مڑے تو مجھے دیکھ لیا۔آپ نے فرمایا: کون ہے ؟ فِدَاءَكَ قَالَ يَا أَبَا ذَرِّ تَعَالَهُ قَالَ میں نے کہا: ابوذر، اللہ مجھے آپ کے قربان فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ لِي إِنَّ کرے۔فرمایا: ابوذر آجاؤ۔کہتے تھے: میں آپ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ نے فرمایا: جو بہت إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ دولتمند ہیں وہی قیامت کے دن نادار ہوں گے يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ مگر وہ شخص نہیں جس کو اللہ نے دولت دی ہو اور وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ اس نے اس کو اپنے دائیں اور بائیں اور آگے اور سَاعَةً فَقَالَ لِي اجْلِسْ هَا هُنَا قَالَ پیچھے لٹایا ہو اور اس مال سے اچھے کام کئے ہوں۔کہتے تھے: میں آپ کے ساتھ کچھ دیر اور چلا تو فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعِ حَوْلَهُ حِجَارَةً آپ نے فرمایا، یہاں بیٹھ جاؤ۔کہتے تھے۔آپ فَقَالَ لِي اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ نے مجھے ایک ہموار میدان میں بٹھا دیا جس کے إِلَيْكَ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا آس پاس پتھر تھے۔آپ نے فرمایا: یہیں بیٹھے أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ ثُمَّ رہو اس وقت تک کہ میں تمہارے پاس لوٹ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ آؤں۔کہتے تھے۔آپ پتھریلی زمین میں اتنی وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ فَلَمَّا جَاءَ دور چلے گئے کہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور