صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 207
صحیح البخاری جلد۱۵ ۲۰۷ ۱ - کتاب الرقاق حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ باپ نے مجھے بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنِ الْحَارِثِ انہوں نے کہا ابراہیم تیمی نے مجھے بتایا، ابراہیم نے سُوَيْدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ قَالَ حارث بن سوید سے روایت کی۔انہوں نے کہا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) نے کہا کہ نبی صلی اللہ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ قَالُوا علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ایسا ہے کہ جس يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ کو اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو ؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی أَحَبُّ إِلَيْهِ قَالَ فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَرَ۔بھی ایسا نہیں جس کو اپنا مال زیادہ پیارا نہ ہو۔آپ نے فرمایا: تو پھر اس کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو اس نے پیچھے چھوڑ دیا۔بَاب ۱۳ : الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُونَ۔جتنے زیادہ مال دار ہیں وہی زیادہ نادار ہوں گے وَقَوْلُهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيوة اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جو اس دنیا کی زندگی اور الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ اس کی زینت چاہتے ہوں تو ہم ان کو ان کی محنتوں فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ أوليك کا بدلہ جو انہوں نے اس کے حاصل کرنے کے الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلا النَّارُ لئے کی ہیں پورا پورا دیں گے اور انہیں اس میں کم وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَطِلُّ مَا كَانُوا نہیں دیا جائے گا۔یہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں اور دنیا میں يعملون (هود: ١٧،١٦) جتنے کام انہوں نے کئے وہ سب رائیگاں گئے اور بے حقیقت ہے جو وہ کر رہے تھے۔٦٤٤٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۶۴۴۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ