صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 206 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 206

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱ - کتاب الرقاق لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ میں اس کو برکت دی جائے گی اور جس نے اسے يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا لالچ سے لیا تو اس میں اس کے لئے برکت نہیں يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ ڈالی جائے گی اور وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے سیر نہیں ہوتا اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر السُّفْلَى۔أطرافه : ١٤٢٧، ١٤٧٢، ٢٧٥٠، ٣١٤٣۔ہوتا ہے۔ا تشريح۔قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْمَالُ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ بي صلى اللہ علیہ وسم کا فرمانا: یہ مال ہرا بھرا شیریں ہے۔مال کے میٹھا اور ہرا بھرا ہونے سے اس کھیت کا نقشہ کھینچا ہے جو اپنی ہریالی کی وجہ سے نظروں کو بھاتا اور اپنی طرف کھینچتا ہے۔اور میٹھا ہونے سے دنیوی لذات کی طرف اشارہ کیا ہے انسان کے اعضاء میں اللہ تعالیٰ نے خوبصورت مناظر اور ذائقوں کی لذت رکھی ہے اور ان لذات کو پورا کرنے کے لیے ان کے مناسب حال اشیاء میں وہ خاصیتیں رکھی ہیں اور یہ بھی جوڑوں کی صورت میں باہم اتصال سے حصولِ لذت کا باعث بنتے ہیں ان لذات سے حظ اٹھانا قطعا منع نہیں اور نہ قابل مذمت ہے مگر یہ فیصلہ خالق نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے کہ جہاں جہاں اور جس جس صورت میں اور جس حد تک وہ ان لذات سے حظ اٹھانے کی اجازت و حکم دے گا اس کے مطابق انسان ان لذات سے فائدہ اٹھاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ یہ ہرگز منع نہیں بلکہ امر الہی اور اذنِ الہی کے نتیجہ میں باعث ثواب اور رضامندی کمولا کا موجب ہیں۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ میاں بیوی کے تعلق کا اُن کو ثواب ملے گا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ انسان اپنی خواہش پوری کرتا ہے اس میں ثواب کیسا ؟ فرمایا اگر وہ اذنِ الہی کے بغیر عمل کرے گا تو کیا اس کا گناہ نہیں ہو گا ؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں گناہ ہو گا۔فرمایا تو اذنِ الہی سے وہی امر ثواب اور اجر کا باعث ہو گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف) اسی نکتہ کو حضرت عمر کے زیر باب قول میں بیان کیا گیا ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ أُنْفِقَهُ فِي حَقِه پس اگر خواہشات کا غلام ہو کر ان کو پورا کرتا ہے تو وہ مذموم ہے اور اگر عبد اللہ یعنی اللہ کا بندہ بن کر بحکم الہی و اذنِ الہی ان لذات سے حظ اٹھاتا ہے تو یہ ثواب اور رضائے الہی کا موجب ہے۔بَاب :۱۲ : مَا قَدَّمَ مِنْ مَالِهِ فَهُوَ لَهُ جس نے اپنے مال کو آگے بھیج دیا تو وہی مال اس کا مال ہے ٦٤٤٢: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۶۴۲۲: عمر بن حفص نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے