صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 204 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 204

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۰۴ ۸۱ - كتاب الرقاق ور اس لئے کیا کہ انسان اولاد کو جگر کا ٹکڑا اور اپنا وارث سمجھتا ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ اور انسان کے محبوبات میں ضد ہے۔ دونوں باتیں ایک جا جمع نہیں ہو سکتیں۔“ نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: لمفوظات جلد اول صفحه ۴۰۳) ”دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۱۲ بچے فوت ہوئے۔ ایمان تو وہ ہوتا ہے جس میں لغزش نہ ہو اور ایسے ایمان والا خدا تعالیٰ کو بہت محبوب ہوتا ہے۔ ہاں اگر بچہ خدا سے زیادہ محبوب ہے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا شخص خدا پر ایمان کا دعویٰ کر سکے۔ اور وہ کیوں ایسا دعویٰ کرتا ہے۔ ہم نہیں جان سکتے کہ ہماری اولادیں کیسی ہوں گی۔ صالح ہوں گی یا بد معاش۔ اور نہ اُن کے ہم پر کوئی احسان ہیں اور خدا کے تو ہم پر لاکھوں لاکھ احسان ہیں۔ پس سخت ظالم ہے وہ شخص کہ اس خدا سے تعلق توڑ کر اولاد کی طرف تعلق لگاتا ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔ اگر خدا پر تمہارا کامل ایمان ہو تو پھر تو تمہارا یہ مذہب ہونا چاہیے کہ هر چه از دوست میرسد نیکوست ! اور اس ایمان والے کے شیطان قریب بھی نہیں آتا۔“ (ملفوظات، جلد چہارم صفحہ ۱۹۰، ۱۹۱) نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: و یقینا سمجھو کہ میرے پیچھے آنا ہے اور سچے مسلمان بننا ہے تو پہلے بیٹوں کو مار لو۔ با با فرید کا مقولہ بہت صحیح ہے کہ جب کوئی بیٹا مر جاتا تو لوگوں سے کہتے کہ ایک کتورہ کئی کا بچہ ) مر گیا ہے اس کو دفن کر دو۔ پس کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کر سکتا جب تک با وجود اولاد کے بے اولاد نہ ہو اور باوجود مال کے دل میں مفلس و محتاج نہ ہو اور باوجود دوستوں کے بے یار و مددگار نہ ہو۔ یہ ایک مشکل مقام ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔ اسی مقام پر پہنچ کر وہ سچا خدا پرست بنتا ہے۔“ (ملفوظات، جلد پنجم صفحہ ۹۷) اے دوست کی طرف سے آنے والی ہر چیز اچھی ہے“