صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 203 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 203

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٢٠٣ ۱ - کتاب الرقاق نہ سودا بیچنا غافل کرتا ہے۔وہ اُس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اُلٹ جائیں گے اور آنکھیں پلٹ جائیں گی نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ اُن کو اُن کے اعمال کی بہتر سے بہتر جزا دے گا اور ان کو اپنے فضل سے (مال و اولاد میں ) بڑھا دے گا اور اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔وَالْقَطِيفَة : هي الثَّوْبُ الَّذِي لَهُ عمل قطيفه بنیادی طور پر ریشمی کمبل یا ریشم کی بنی گرم چادر کو کہتے ہیں۔وَالْخَمِيصَةُ : الْكِسَاءُ الْمُرَبعُ۔خمیصه چوکور چادر کو کہتے ہیں۔تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَاليَرُهم : درہم و دینار کا بندہ ہلاک ہو گیا۔اس میں درہم و دینار کا مالک نہیں بلکہ ”عبد“ یعنی غلام کہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ درہم و دینار کا مالک نہیں بلکہ درہم و دینار اس کے مالک ہیں اور وہ ان کا بندہ ہے یہی وہ مال کی حرص و ہوا ہے جو ان لوگوں کو اپنا غلام بنا لیتی ہے۔اس غلامی سے نکال کر خالق و مالک کی غلامی میں لانا تخلیق انسان کا مقصد ہے۔فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔خدا نے اپنا عبد بنانے کے لیے پیدا کیا ہے اور جو اُس کا ہو جائے۔اُس کے متعلق وہ فرماتا ہے جے توں میرا ہو ر ہیں سب جنگ تیرا ہو (البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ مورخه ۸ مئی ۱۹۰۳ء حاشیہ صفحہ ۱۲۳) یعنی اگر تو میرا ہو جائے تو ساری دنیا تیری ہو جائے۔علامہ طیبی نے کہا یہاں عبد کے لفظ کو خاص کیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ وہ دنیا کی محبت اور اس کی شہوات میں اس طرح ڈوبا ہوا ہے کہ جیسے کوئی کسی کی قید میں ہو اور اس سے رہائی کی کوئی راہ نہ پاتا ہو مالک الدینار اور جامع الدینار نہیں فرمایا کیونکہ قابل مذمت، ضرورت سے زیادہ کا مالک بننا اور زیادہ جمع کرنا ہے۔اور بعض نے کہا مال کی حرص اور شغف کی وجہ سے اُسے ”عبد“ کہا ہے کیونکہ جو سفلی خواہشات کا غلام ہو جائے وہ اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتا۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحه ۳۰۷،۳۰۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” اَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (الانفال:۲۹) اموالکم میں عورتیں داخل ہیں۔عورت چونکہ پردہ میں رہتی ہے ، اس لئے اس کا نام بھی پر دہ ہی میں رکھا ہے اور اس لئے بھی کہ عورتوں کو انسان مال خرچ کر کے لاتا ہے۔مال کا لفظ مائل سے لیا گیا ہے۔یعنی جس کی طرف طبعاً توجہ اور رغبت کرتا ہے۔عورت کی طرف بھی چونکہ طبعاً توجہ کرتا ہے، اس لئے اس کو مال میں داخل فرمایا ہے۔مال کا لفظ اس لئے رکھا تا کہ عام محبوبات پر حاوی نہ ہو۔ورنہ اگر صرف نساء کا لفظ ہو تا تو اولاد اور عورت دو چیزیں قرار دی جاتیں۔اور اگر محبوبات کی تفصیل کی جاتی، تو پھر دس جزو میں بھی ختم نہ ہوتا۔غرض مال سے مراد گل مَا يَمِيلُ إِلَيْهِ الْقَلْبُ ہے۔اولاد کا ذکر