صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 202
صحیح البخاری جلد ۱۵ حَتَّى نَزَلَتْ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ ۱ - کتاب الرقاق أبي بن كعب) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم سمجھا کرتے تھے یہ قول قرآن میں ہے یہاں تک کہ سورة الهكُمُ التَّكَاثُرُ نازل ہوئی۔تشریح : مَا يُتَقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ : مال کے فتنے سے بچنا۔زیر باب آیت میں مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا گیا ہے۔اور زیر باب احادیث میں انسان کے مال کی حرص کو بیان کیا ہے۔فتنہ سے کیا مراد ہے اہل لغت لکھتے ہیں فَتَن يَفين فَتْنا وَ فُتُونَا کے معنے ہیں سونے چاندی و دیگر معدنیات کو جانچنے کے لیے آگ میں پگھلانا۔فتنهُ بِشَيْءٍ أو فيکسی چیز میں مبتلا کرنا کسی چیز سے آزمانا۔فَتَنَهُ الشيءُ فُلَانًا: گرویدہ بنانا۔فریفته کرنا۔فَتَدَهُ فلانًا عن الشيء ہٹانا، باز رکھنا ، بھٹکانا۔تفاتن الرجال: مردوں کا باہم جنگ کرنا اور مصیبت میں پڑنا (القاموس الوحید- فَتَن) لغت کے بیان کردہ یہ معنے مال اور اولاد کے لیے مختلف جہات میں دکھائی دیتے ہیں مثلاً آگ میں ڈال کر پگھلانا اور کھرے کھوٹے میں فرق معلوم کرنا۔اللہ تعالیٰ انسان کو مال اور اولاد کے ذریعہ آزماتا ہے کہ میری محبت میں کون کھرا اور کون کھوٹا ہے۔جب ان دونوں محبتوں کا مقابلہ ہو یعنی اللہ کی محبت اور اس کے مقابل مال اور اولاد کی محبت تو یہ آزمائش انسان کی حقیقت کو کھول دیتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کو بھی اسی پیمانہ سے ماپنے کا فرمایا ہے قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدُ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بندہ ( کامل ) مؤمن نہیں بن سکتا، جب تک میں اسے اس کے اہل اور اس کے مال اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔فتتهُ الشيءُ فلانًا: گرویدہ کرنا فریفتہ کرنا دیوانہ بنانا یہ فتنہ بھی مال اور اولاد کے مقابل اللہ سے اپنی محبت اور وارفتگی سے ثابت کرتا ہے کہ وہ کس کا گرویدہ ہے اور کس پر فریفتہ ہے۔مال و دولت کی یہ آگ کیسے سرد ہو سکتی ہے اور یہ انقلاب کیسے برپا ہو سکتا ہے کہ دنیا کی محبت خدا کی محبت میں بدل جائے ؟ اسلام اپنی کامل تعلیم کے ساتھ بانی اسلام حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ برپا ہونے والے انقلاب کو صحابہ کے عملی نمونہ کی صورت میں پیش کرتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور قوت قدسیہ نے صحابہ کے اندر وہ پاک تبدیلی پیدا کی کہ خدا کے مقابل انہیں نہ اپنی جان کی پر واہ تھی نہ مال کی نہ اولاد کی۔ان کے رگ وریشہ میں خدا کی محبت ایک دائمی یاد اور ذکر سے ایسی عبارت تھی کہ خدا کی محبت کے مقابل کوئی چیز انہیں اپنی طرف مائل نہیں کر سکتی تھی۔اُن کے اندر پیدا ہونے والی اس تبدیلی کی گواہی خود خدا نے دی فرما یا رجال الا تلهيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعَ عَنْ ذِكرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوة يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَ الابصارُه لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (النور: ۳۹٬۳۸) کچھ مرد جن کو اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے سے اور زکوٰۃ کے دینے سے نہ تجارت اور ل (صحیح مسلم، کتاب الایمان، بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنَ الْأَهْلِ وَالْوَلَدِ)