صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 201
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۰۱ ۱ - کتاب الرقاق عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ عباس بن سہل بن سعد سے روایت کی انہوں نے سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ کہا۔میں نے حضرت ابن زبیر سے سنا جبکہ وہ مکہ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ میں منبر پر کھڑے اپنی تقریر کر رہے تھے کہتے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تھے: اے لوگو ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے يَقُولُ لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ أُعْطِيَ وَادِيًا تھے۔اگر ابن آدم کو ایک وادی بھی سونے کی ملانَ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَانِيًا بھری ہوئی دی جائے تو وہ اس کے ساتھ دوسری وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا أَحَبَّ إِلَيْهِ ثَالِيًّا وَلَا بھی چاہے گا اور اگر دوسری بھی دی جائے تو اس کے ساتھ تیسری بھی چاہے گا اور مٹی ہی ابن آدم يَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التَّرَابُ کے پیٹ کو بھر سکتی ہے اور اللہ رحم کرتا ہے اس پر وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ۔جس نے توبہ کی۔٦٤٣٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۶۴۳۹: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی أَنَسُ بْنُ مَالِكِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے خبر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی بھی ہو تو وہ وَادِيَانِ وَلَنْ يَّمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التَّرَابُ چاہے گا کہ اس کے لئے دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو کبھی کوئی چیز نہ بھرے گی مگر مٹی ہی اور وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ۔اللہ رحم کرتا ہے اس پر جس نے توبہ کی۔٦٤٤٠: وَقَالَ لَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۴۴۰: اور ابو الولید نے ہم سے کہا کہ ہمیں حماد حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ بن سلمہ نے بتایا۔انہوں نے ثابت سے، ثابت عَنْ أُبَى قَالَ كُنَّا نَرَى هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ نے حضرت انس سے، حضرت انس نے حضرت 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ملا “ ہے۔(فتح الباری جزءا احاشیہ صفحہ ۳۰۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔