صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 200 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 200

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۰۰ ۸۱ - كتاب الرقاق ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ ابن جریج سے ، ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح ) ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ میں يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ تھے: اگر ابن آدم کے لئے دو وادیاں بھی مال کی ابْنِ آدَمَ إِلَّا التَّرَابُ وَيَتُوبُ اللهُ (بھری ہوئی) ہوتیں تو ضرور ہی تیسری وادی بھی عَلَى مَنْ تَابَ۔ طرفه : ٦٤٣٧ - ڈھونڈتا اور بنی آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے اور اللہ اس پر رحم کرتا ہے جو توبہ کرے۔ ٦٤٣٧: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۶۴۳۷ : محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ مَخْلَدٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ مخلد بن یزید ) نے ہمیں بتایا۔ ابن جریج نے ہمیں عَطَاءٌ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ خبر دی ۔ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے سنا۔ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ وہ کہتے تھے میں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔ وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مِلْءَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبُّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ سنا۔ آپ فرماتے تھے: اگر ابن آدم کے لئے بھری وادی جتنا مال ہوتا تو وہ ضرور چاہتا کہ اس کو اتناہی مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ عَيْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا اور مل جائے اور ابن آدم کی آنکھ کو صرف مٹی ہی التَّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ بھرتی ہے اور اللہ اس پر رحم کرتا ہے جو تو بہ کرے۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ حضرت ابن عباس کہتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ هُوَ أَمْ لَا قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ قرآن سے ماخوذ ہے یا نہیں۔ کہتے تھے: اور میں يَقُولُ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ۔ طرفه : ٦٤٣٦ - نے ابن زبیر سے سنا کہ وہ یہ بات منبر پر کھڑے کہہ رہے تھے۔ ٦٤٣٨ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۴۳۸ : ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرحمن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ بن سلیمان بن غسیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے