صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 198 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 198

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹۸ ۱ - کتاب الرقاق الشَّيْطَانُ۔دھوکہ باز ، اس سے مراد شیطان ہے۔٦٤٣٣: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ۶۴۳۳: سعد بن حفص۔۶۴۳۳: سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ شيبان بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔انہوں بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِي قَالَ أَخْبَرَنِي نے بچی سے بیٹی نے محمد بن ابراہیم قرشی سے، مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ أَبَانَ محمد نے کہا معاذ بن عبد الرحمن نے مجھے بتایا کہ ابن أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ابان نے انہیں خبر دی کہ اُنہوں نے کہا: میں بِطَهُورٍ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى الْمَقَاعِدِ حضرت عثمان بن عفان کے لئے وضو کا پانی لایا اور فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ وہ مقاعدے میں بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا۔پھر کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تھا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ جبکہ آپ یہیں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ نے اچھی طرح وضو کیا۔پھر آپ نے فرمایا: جس نے اس مِثْلَ هَذَا الْوُضُوءِ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ وضو کی طرح وضو کیا پھر مسجد میں آکر دو رکعتیں فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ غُفِرَ لَهُ مَا پڑھیں۔پھر وہاں بیٹھ گیا تو جو قصور بھی اس کا ہو تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى چکا ہے اس پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اس سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْتَرُّوا۔أطرافه : ١٥٩، 160، 164، 1934- در گزر کیا جائے گا۔حضرت عثمان نے کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھوکے میں نہ رہنا۔بَاب ٩ : ذَهَابُ الصَّالِحِينَ وَيُقَالُ الذَّهَابُ الْمَطَرُ نیکوں کا چلے جانا اور الذهاب بارش کو بھی کہا جاتا ہے ٦٤٣٤: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ :۶۴۳۴ يحي بن حماد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بَيَانِ عَنْ قَيْسِ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بیان (بن بشر ) لے یہ مدینہ میں ایک مقام ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۴۳)