صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 197
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹۷ ۸۱ - كتاب الرقاق اپنی تجارتوں اور ملازمتوں میں بھی مصروف ہوں مگر میں یہ نہیں پسند کرتا کہ خدا کے لئے ان کا کوئی وقت بھی خالی نہ ہو۔ہاں تجارت کے وقت پر تجارت کریں اور اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کو اس وقت بھی مد نظر رکھیں تا کہ وہ تجارت بھی ان کی عبادت کا رنگ اختیار کرلے۔نمازوں کے وقت پر نمازوں کو نہ چھوڑیں۔ہر معاملہ میں کوئی ہو دین کو مقدم کریں۔دنیا مقصود بالذات نہ ہو اصل مقصود دین ہو پھر دنیا کے کام بھی دین ہی کے ہوں گے۔صحابہ کرام کو دیکھو کہ انہوں نے مشکل مشکل وقت میں بھی خدا کو نہیں چھوڑا۔لڑائی اور تلوار کا وقت ایسا خطر ناک ہوتا ہے کہ محض اس کے تصور سے ہی انسان گھبرا اٹھتا ہے۔وہ وقت جبکہ جوش اور غضب کا وقت ہوتا ہے ایسی حالت میں بھی وہ خدا سے غافل نہیں ہوئے، نمازوں کو نہیں چھوڑا۔دعاؤں سے کام لیا۔اب یہ بدقسمتی ہے یوں تو ہر طرح سے زور لگاتے ہیں بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں جلسے کرتے ہیں کہ مسلمان ترقی کریں مگر خدا سے ایسے غافل ہوتے ہیں کہ بھول کر بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔پھر ایسی حالت میں کیا اُمید ہو سکتی ہے کہ ان کی کوششیں نتیجہ خیز ہوں۔یاد رکھو جب تک لا اله الا اللہ دل و جگر میں سرایت نہ کرے اور وجود کے ذرہ ذرہ پر اسلام کی روشنی اور حکومت نہ ہو کبھی ترقی نہ ہو گی۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۱۰) باب ۸ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَا تَغْرَنَّكُمُ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللهِ الْغَرُورُ إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عدوا إِنَّمَا يَدُعُوا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَب السَّعِيرِ (فاطر: ٧،٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا یعنی اے لوگو! اللہ کا وعدہ اٹل ہے اس لئے دنیا کی زندگی تمہیں کہیں دھوکا نہ دے اور دغا باز تمہیں اللہ کے متعلق دھوکے میں نہ ڈالے کیونکہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھتے رہو وہ اپنے گروہ کو صرف اس لئے بلا رہا ہے کہ وہ بھی دوزخی بن جائیں۔جَمْعُهُ سُعُرٌ۔قَالَ مُجَاهِدٌ الْغَرُورُ سیر کی جمع شعر ہے۔مجاہد نے کہا: الْغَرُود گمراہ