صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 196
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹۶ ۱ - کتاب الرقاق نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا فِي التَّرَابِ۔ایمان کو دنیا نے کچھ کم نہیں کیا اور ہم نے ان کے بعد وہ کچھ حاصل کیا ہے کہ مٹی میں رکھنے کے سوا اور کوئی جگہ نہیں پاتے۔أطرافه : ٥٦۷۲ ٦٣٤٩ ، ٢٣٥٠، ٦٤٣٠، ٧٢٣٤۔٦٤٣٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۶۴۳۲ محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيْقِ سفيان بن عیینہ) سے، سفیان نے اعمش سے، أَبِي وَائِلٍ عَنْ خَبَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اعمش نے شقیق ابو وائل سے، انہوں نے حضرت قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی پھر اپنی ہجرت کا واقعہ بیان کیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أطرافه : ١٢٧٦، ۳۸۹٧ ،۳۹۱۳، ۳۹۱۴، ٠٤٠٤۷ ٠٤٠٨٢ ٦٤٤٨ - ما يُحذِّرُ مِنْ زَهَرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسُ فِيهَا : دنیا کی زیبائش اور اس کی خواہش سے جو ڈرایا جاتا ہے۔زیر باب احادیث میں انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ دنیا کی رونق اور تر و تازگی کہیں اسے آخرت سے غافل نہ کر دے۔یہ دنیا دار الامتحان ہے اور انسان کا اس دنیا میں آنے کا اصل مقصد خدا کی عبادت کرنا ہے۔اگر انسان اپنے بنیادی مقصد سے پہلو تہی کر کے دنیا کا غلام بن جائے اور دنیاوی دھندوں میں پڑ کر خدا کو بھول جائے تو اس نے اپنی تخلیق کے مقصد کو ضائع کر دیا۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمت کے متعلق دنیا داری کا خوف اس علم کی بناء پر تھا کہ آپ کو علم دیا گیا کہ آپ کی اُمت پر مال کی کشائش ہو گی اور وہ دنیا دار بن جائیں گے۔(فتح الباری، جزء صفحہ ۲۹۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ دنیا کو ترک کرتے ہیں اس سے یہ مراد ہے کہ وہ دنیا کو اپنا مقصود اور غایت نہیں ٹھہراتے اور دنیا ان کی خادم اور غلام ہو جاتی ہے۔جو لوگ بر خلاف اس کے دنیا کو اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں خواہ وہ دنیا کو کسی قدر بھی حاصل کر لیں مگر آخر کار ذلیل ہوتے ہیں۔“ (ذکر حبیب صفحہ ۱۰۵) آپ مزید فرماتے ہیں: ” میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان سست ہو جاویں۔اسلام کسی کو سست نہیں بناتا۔فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ”قصہ “ ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۲۹۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔فضه