صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 195
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹۵ ۸۱ - كتاب الرقاق أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ۔ہوں گے۔پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے أطرافه : ٢٦٥٢، ٣٦٥١، ٦٦٥٨- کہ ان کی گواہی ان کی قسموں سے پہلے ہو گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے پہلے ہوں گی۔٦٤٣٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ۶۴۳۰: یحی بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وسیع حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ نے ہمیں بتایا۔اسماعیل ( بن ابی خالد کوفی) نے قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ خَبَّابًا وَقَدِ ہم سے بیان کیا۔اسماعیل نے قیس ( بن ابی حازم) اكْتَوَى يَوْمَئِذٍ سَبْعًا فِي بَطْنِهِ وَقَالَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حباب سے سنا اور انہوں نے ان دنوں اپنے پیٹ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ میں سات داغ لگوائے تھے اور کہتے تھے اگر لَدَعَوْتُ بِالْمَوْتِ إِنَّ أَصْحَابَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا کرنے مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَضَوْا سے ہمیں نہ روکا ہو تا تو میں ضرور ہی موت کی دعا وَلَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا بِشَيْءٍ وَإِنَّا کرتا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی چلے گئے أَصَبْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لَا نَجِدُ لَهُ اور دنیا نے ان کے ایمان کو کچھ کم نہیں کیا اور ہم مَوْضِعًا إِلَّا التَّرَابَ۔نے اس دنیا سے اتنا حاصل کیا ہے کہ مٹی کے سوا اس کو رکھنے کی کوئی جگہ نہیں پاتے۔أطرافه : ٥٦٧٢ ٦٣٤٩، ٦٣٥٠، ٦٤٣١، ٧٢٣٤۔٦٤٣١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۶۴۳۱: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ (قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل (بن حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ أَتَيْتُ حَبَّابًا وَهُوَ إلى خالد ) سے، اسماعیل نے کہا قیس (بن ابی حازم) يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے: میں حضرت خباب الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا کے پاس آیا جبکہ وہ اپنی ایک دیوار بنارہے تھے شَيْئًا وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا لَا کہنے لگے : ہمارے ساتھی جو گزر گئے ہیں ان کے