صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 193
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹۳ ۸۱ - كتاب الرقاق مَا يُخْرِجُ اللهُ لَكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ میں ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ اللہ تمہارے لئے زمین الْأَرْضِ قِيلَ وَمَا بَرَكَاتُ الْأَرْضِ قَالَ کی برکتیں نکالے گا۔پوچھا گیا: زمین کی برکتیں کیا زَهْرَةُ الدُّنْيَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ يَأْتِي ہوتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا: دنیا کی زیبائش۔اس پر الْخَيْرُ بِالشَّرِ فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى ایک شخص نے آپ سے پوچھا: کیا اچھی چیز بھی شرکو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لاتی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔يُنْزَلُ عَلَيْهِ ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ عَنْ یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ آپ پر وحی نازل ہو جَبِينِهِ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ قَالَ أَنَا قَالَ رہی ہے۔پھر آپ اپنی پیشانی سے (پسینہ) صاف کرنے لگے اور فرمایا: وہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس أَبُو سَعِيدٍ لَقَدْ حَمِدْنَاهُ حِينَ طَلَعَ نے کہا: میں یہ ہوں۔حضرت ابوسعید کہتے تھے: لِذَلِكَ قَالَ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ ہم نے اسے اچھا سمجھا جب وہ سامنے آیا آپ نے إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ كُلَّ فرمایا: خیر خیر کو ہی لاتی ہے۔یہ مال ہرا بھرا میٹھا مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُ ہے۔مگر یہ تو دیکھو کہ جب موسم بہار میں گھاس إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرَةِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا آتی ہے تو وہ اس (جانور) کو مار ڈالتی ہے یا مرنے امْتَدَّتْ خَاصِرَنَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ کے قریب کر دیتی ہے (جسے کھانے سے اپھارہ فَاجْتَرَّتْ وَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ عَادَتْ ہو جاتا ہے۔) مگر وہ (جانور ) جو ہری گھاس کھاتا فَأَكَلَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ مَنْ ہے اور جب اس کی دونوں کو کھیں بھر جاتی ہیں۔أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ وہ سورج کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے۔وہ جگالی الْمَعُونَةُ هُوَ وَإِنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کرتا ہے اور بول و براز کرتا ہے۔پھر چرتا پھرتا كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ۔ہے (تو وہ بچ جاتا ہے) دیکھو یہ مال بھی ہرا بھرا اور میٹھا ہے جس نے صحیح طریقے سے اس کو لیا اور صحیح أطرافه : ٩٢١، ١٤٦٥، ٢٨٤٢- ا طور پر اسے خرچ کیا تو پھر کیا ہی اچھا ہے یہ مددگار اور جس نے ناجائز طور پر اسے لیا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔