صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 189
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۹ ۸۱ - كتاب الرقاق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنی عمر بڑھائے اور لمبی عمر پائے تو اس کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے ، خالص دین کے واسطے اپنی عمر کو وقف کرے۔یہ یاد رکھے کہ اللہ تعالٰی سے دھو کہ نہیں چلتا۔جو اللہ تعالیٰ کو دعا دیتا ہے وہ یادر کھے کہ اپنے نفس کو دھوکہ دیتا ہے وہ اس کی پاداش میں ہلاک ہو جاوے گا۔پس عمر بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفاداری کے ساتھ اعلائے کلمتہ الاسلام میں مصروف ہو جاوے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آج کل یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے۔اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے، یونہی چلی جاتی ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۶۳) فِيهِ سَعْدٌ بَاب ٦ : الْعَمَلُ الَّذِي يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ وہ کام جس کے ذریعہ سے اللہ کی رضامندی کی خواہش کی جائے۔اس کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص) نے روایت کیا۔٦٤٢٢: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ :۶۴۲۲: معاذ بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا معمر نے ہمیں الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خبر دی، انہوں نے زہری سے روایت کی۔انہوں الرَّبِيعِ وَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ نے کہا: مجھے حضرت محمود بن ربیع (انصاری) نے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بتایا اور حضرت محمود کا خیال تھا کہ ان کو رسول اللہ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجْهَا مِنْ دَلْوِ كَانَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یاد ہے اور کہا وہ کلی بھی فِي دَارِهِمْ۔یاد ہے جو آپ نے ایک ڈول سے جو ان کے گھر میں تھا، لے کر ڈالی تھی۔أطرافه : ۷۷، ۱۸۹، 83۹، 1185، 6354- ٦٤٢٣: قَالَ سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ :۶۴۲۳: اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت عتبان