صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 188 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 188

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۸ - كتاب الرقاق اثْنَتَيْنِ فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الْأَمَلِ۔ محبت اور طول امل۔ (لمبی آرزوئیں) لیث نے یونس قَالَ لَيْثٌ عَنْ يُونُسَ وَابْنُ وَهْبٍ عَنْ (بن یزید) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا اور يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابن وہب نے بھی یونس سے ، یونس نے ابن شہاب سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ۔ سے نقل کیا۔ اُنہوں نے کہا: مجھے سعید اور ابوسلمہ نے بتایا۔ ٦٤٢١ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۶۴۲۱ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ بیان کیا، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْبَرُ ابْنُ آدَمَ روایت کی انہوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ وَيَكْبَرُ مَعَهُ اثْنَتَانِ حُبُّ الْمَالِ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے اور وَطُولُ الْعُمُرِ۔ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ اِس کے ساتھ دوباتیں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔ مال کی محبت اور درازی عمر کی خواہش۔ اس کو شعبہ نے بھی قتادہ سے روایت کیا۔ تشريح : مَنْ بَلَغَ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْلَدَ اللهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ : جو ساٹھ سال کو کیچ کیا تو پر اللہ اس کو اتنی عمر دے چکا کہ اب اس کے لئے کوئی عذر کرنے کی گنجائش نہ رہی۔ ساٹھ سال ایک ایسی اوسط عمر ہے جو قریباً دنیا کے ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ استثنائی مثالیں چاہے زیادہ بھی ہوں مگر ساٹھ سال کی اس اوسط عمر سے زیادہ نہیں ہوں گی۔ اور یہ عرصۂ حیات کام کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ جس نے بے کار اور بے مقصد زندگی گزارنی ہے وہ سو سال بھی جی لے تو بے معنی ہے۔ بامقصد اور بامراد ساٹھ سال انسان کا بہترین وقت ہے دنیا کے اکثر ممالک میں کام کی عمر ساٹھ سال ہی سمجھی جاتی ہے اس لیے ساٹھ سال کی عمر کے بعد ریٹائر منٹ دے دی جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی عمر کے ساتھ حسن عمل کو مشروط کیا ہے جیسا کہ ایک حدیث ہے أَنْ أَعْرَابِيًّا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ ؟ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُن عمله ! کہ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ لوگوں میں سے بہترین کون ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہوئی اور عمل اچھے ہوئے۔ حسن عمل کی بہترین شکل یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے دین کے لیے وقف کر دے یہ وقف طول عمر اور حسن عمل میں بڑھانے کا بہترین اور آزمودہ نسخہ ہے۔ ا (سنن الترمذی، ابواب الزهد باب مَا جَاءَ فِي طُولِ العُمْرِ لِلْمُؤْمِنِ)