صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 186
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۶ - كتاب الرقاق تشريح في الأَمَلِ وَطُولِهِ : آرزوا : آرزو اور طول امل - امل کے متعلق۔ زیر باب تین آیات | ن آیات اور دو احادیث سے انسانی فطرت میں پائی جانے والی آرزوؤں اور خواہشوں کو بیان کیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نقشہ بنا کر اس کی بہت سادہ اور عام فہم وضاحت فرمائی ہے کہ انسانی زندگی محدود ہے اور اس محدود زندگی میں بھی اس قدر خطرات لاحق ہیں جو اسے اور بھی چھوٹا اور مختصر کر سکتے ہیں۔ انسان اس فکر کو محسوس کرنے کی بجائے ایسی دنیاوی آرزوؤں اور خواہشات کے ساتھ جیتا ہے جن کی کوئی انتہاء نہیں ۔ امام بخاری نے اس مضمون کو حضرت علی کے قول سے ایک اور زاویہ سے واضح کیا ہے کہ دنیا تو پیچھے کی طرف جارہی ہے۔ اور آخرت سامنے سے آ رہی ہے۔ پس جو دنیا نا پائیدار ہے جو اپنے خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کے پیچھے بھاگنے کی بجائے جو سامنے سے آ رہی ہے اس کے استقبال کی تیاری کرو۔ ابناء دنیا نہ بنو بلکہ ابناء آخرت بنو۔ دنیا اور اس کی خواہشات نے تولاز کا ختم ہونا ہے ان سے اس طرح دل نہ لگاؤ کہ جب وہ ختم ہوں تو تمہارے اندر حسرت اور ان کی طلب کی آگ لگ جائے کیونکہ یہ آگ بجھنے کے ذرائع ختم ہو جائیں گے اور تمہاری یہ آگ آخرت میں بھی آگ بن کر جلائے گی۔ ہوش کرو اور جہنم سے اپنے آپ کو ، آپ کو بچاؤ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں لذات دنیا تو ایک قسم کی ناپاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں۔ استسقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی۔ یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پس یہ بے جا آرزو اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی، بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطاں و پیچاں رکھتی ہے۔ اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسا دیوانہ اور از خود رفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے۔ مال اور اولاد اسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے۔ اُن سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ اُن سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ نَارُ اللهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ( الهمزة : ۸۰۷) منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی ہے اور ایک جلے ہوئے کوئلے سے بھی سیاہ اور تاریک بنا دیتی ہے۔ یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۷۱)