صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 185 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 185

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۵ ۸۱ - كتاب الرقاق قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُنْذِرٍ عَنْ رَبِيعِ (ثوری) سے ، انہوں نے کہا میرے باپ نے مجھے بْنِ حُنَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بتایا۔انہوں نے مندر سے، منذر نے ربیع بن علیم قَالَ حَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ، ربیع نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ) خَطَّا مُرَبَّعًا وَحَطَّ خَطًا فِي الْوَسَطِ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خَارِجًا مِنْهُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى نے ایک مربع شکل بنائی اور ایک لکیر اس کے درمیان میں کھینچی جو اس مربع سے باہر نکلی ہوئی تھی هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ وَقَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ اور آپ نے اس درمیانی لکیر پر اس کے اس حصے وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ - أَوْ قَدْ أَحَاطَ کی طرف جو مربع کے درمیان ہے کچھ لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل ہے جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یا (فرمایا :) جس نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور یہ جو باہر ہے یہ اس کی آرزو ہے اور یہ جو چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں یہ حادثات ہیں۔اگر اس حادثہ سے بچ نکلا تو یہ حادثہ اس کو دانتوں سے پکڑ لے گا اگر اُس سے بچ نکلا تو یہ پکڑلے گا۔بِهِ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ وَهَذِهِ الخطط فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا وَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا۔٦٤١٨: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ۶۴۱۸) مسلم ( بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي همام ( بن یحی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ خَطَّ بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے۔اسحاق نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا انس بن مالک سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی فَقَالَ هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا صلى الله علیہ وسلم نے کچھ لکیریں کھینچیں۔پھر فرمایا: هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الْأَقْرَبُ یہ آرزوئیں ہیں اور یہ اس کی اجل ہے اسی اثناء میں کہ وہ آرزوئیں رکھے ہوئے ہوتا ہے کہ اتنے میں نہایت ہی قریب کی لکیر آپہنچی ہے۔