صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 185
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۵ - كتاب الرقاق قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُنْذِرٍ عَنْ رَبِيعِ (ثوری) سے، انہوں نے کہا میرے باپ نے مجھے بْنِ حُنَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بتایا۔ انہوں نے مندر سے ، منذر نے ربیع بن خثیم کھنے الله عنة قَالَ خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے ، ربیع نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) خَطَّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًا فِي الْوَسَطِ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خَارِجًا مِنْهُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلَى نے ایک مربع شکل بنائی اور ایک لکیر اس کے هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ درمیان میں پہنچی جوا کی جو اس مربع سے باہر نکلی ہوئی تھی الَّذِي فِي الْوَسَطِ وَقَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ اور آپ نے اس درمیانی لکیر پر اس کے اس حصے وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ - أَوْ قَدْ أَحَاطَ کی طرف جو مربع کے درمیان ہے کچھ لکیریں کھینچیں اور فرمایا: یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل بِهِ - وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجٌ أَمَلُهُ وَهَذِهِ الْحُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ ہے جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے یا فرمایا: جس نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا وَإِنْ ہے اور یہ جو باہر ہے یہ اس کی آرزو ہے اور یہ جو أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَشَهُ هَذَا۔ چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں یہ حادثات ہیں۔ اگر اس حادثہ سے بچ نکلا تو یہ حادثہ اس کو دانتوں سے پکڑ لے گا اگر اُس سے بچ نکلا تو یہ پکڑلے گا۔ ٦٤١٨: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ۶۴۱۸ مسلم ( بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي همام ( بن یحی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَّ بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے۔ اسحاق نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا انس بن مالک سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی فَقَالَ هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا صلى اللہ علیہ وسلم نے کچھ لکیریں کھینچیں۔ پھر فرمایا: هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطَّ الْأَقْرَبُ یہ آرزوئیں ہیں اور یہ اس کی اجل ہے اسی اثناء میں کہ وہ آرزوئیں رکھے ہوئے ہوتا ہے کہ اتنے میں نہایت ہی قریب کی لکیر آپہنچی ہے۔