صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 184
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۴ - كتاب الرقاق غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے۔ اور اُس کی فرمانبرداری وہ کرے۔“ (ملفوظات، جلد ۴ صفحہ ۱۳۷) نیز فرمایا: چاہیے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲) بَاب ٤ : فِي الْأَمَلِ وَطُولِهِ آرزو اور طول امل کے متعلق وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جس کو آگ سے ہٹا دیا گیا وَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيُوةُ اور اور جنت میں داخل کیا گیا تو وہ یقیناً اپنی مراد کو پہنچے الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (آل عمران: ۱۸۶) گا اور دنیا کی زندگی تو صرف ایک دھوکے کا سامان ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَ يُنْهِهِمُ الْأَمَلُ ہے۔ اور فرمایا:) اُنہیں چھوڑ دو کہ وہ کھائیں! فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الحجر: ٤) وَقَالَ عَلِيٌّ مزے اُڑائیں اور آرزوئیں اُنہیں غفلت میں بْنُ أَبِي طَالِبٍ ارْتَحَلَتِ الدُّنْيَا مُدْبِرَةً رکھیں ۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا اور حضرت وَارْتَحَلَتِ الْآخِرَةُ مُقْبِلَةً وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ علی بن ابی طالب نے کہا کہ دنیا تو پیٹھ موڑتے ہوئے کوچ کرگئی اور آخرت سامنے سے چلی آ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ رہی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں اس لئے تم آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے نہ بنو الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابَ وَغَدًا حِسَابٌ کیونکہ آج تو عمل کرنا ہے اور حساب نہیں اور کل وَلَا عَمَلٌ بِمُزَحْزِيه (البقرة: ٩٧) حساب ہونا ہے اور عمل نہیں۔ بِمُزَحْزِجہ کے معنی بِمُبَاعِدِهِ۔ ہیں اس کو دور کرنے والا ، ہٹانے والا۔ ٦٤١٧: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۶۴۱۷: صدقه بن بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ یحی أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ بن سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان