صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 183
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۸۳ ۸۱ - کتاب الرقاق خدا تعالیٰ کے رسول اور دو جہان کے بادشاہ ہیں اس حال میں رہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر مجھے دنیا سے کیا غرض ؟ میں تو اس مسافر کی طرح گزارہ کرتا ہوں جو اُونٹ پر سوار منزل مقصود کو جانتا ہو۔ریگستان کا راستہ ہو اور گرمی کی سخت شدت کی وجہ سے کوئی درخت دیکھ کر اس کے سایہ میں ستا لے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو ا ہو وہ پھر چل پڑے۔جس قدر نبی اور رسول ہوئے ہیں سب نے دوسرے پہلو (آخرت) کو ہی مد نظر رکھا ہوا تھا۔“ (ملفوظات، جلد چهارم، صفحه ۵۱) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ مباحثہ امرتسر کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امرتسر میں رہائش کا ایک منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور وہ اتنی چوڑی تھی کہ آپ کا نیچے کا جسم گھٹنوں تک زمین پر تھا مگر آپ نہایت بے تکلفی اور سادگی سے اس پر لیٹے ہوئے اُٹھ بیٹھے۔میں بیان نہیں کر سکتا کہ ان واقعات کو دیکھ کر میرے اور میاں اللہ دین صاحب کے دل پر کیا گزرا۔آنکھوں کے سامنے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ واقعہ گزر گیا کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوریے پر آرام فرما رہے تھے ، اٹھے تو لوگوں نے دیکھا کہ پہلوئے مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں۔عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگ کوئی گڈا بنوا کر حاضر کریں، ارشاد ہوا کہ مجھ کو دنیا سے کیا غرض، مجھ کو دنیا سے استقدر تعلق ہے جس قدر اس سوار کو جو تھوڑی دیر کے لیے راہ میں کسی درخت کے سایہ میں بیٹھے جاتا ہے۔پھر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں اللہ دین صاحب نے کہا تھا کہ یہاں کوئی دری بچھا دی جاوے تو فرمایا نہیں میں سونے کی غرض سے نہیں لیٹا تھا۔کام میں آرام سے حرج ہوتا ہے اور یہ آرام کے دن نہیں ہیں۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود، مصنفہ حضرت یعقوب علی عرفانی، حصہ سوم،صفحہ ۳۲۰،۳۱۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ انسان جو اس مسافر خانہ میں آتا ہے اس کی اصل غرض کیا ہے ؟ اصل