صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 182 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 182

صحیح البخاری جلد ۱۵ lar ۸۱ - كتاب الرقاق أَبُو المُنْذِرِ الطُّفَاوِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ نے سلیمان اعمش سے ، اعمش نے کہا مجاہد نے مجھے الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ عَنْ بتایا، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا تو دنیا وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ كُنْ فِي الدُّنْيَا میں اس طرح بسر کر گویا کہ تو پر دیسی ہے یا راہ چلتا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلِ۔وَكَانَ مسافر اور حضرت ابن عمر کہا کرتے تھے جب ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تمہیں شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا ہو تو شام کا انتظار نہ کرو اور اپنی صحت سے اپنی بیماری کے لئے اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لئے کچھ (سامان) لے لو۔لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ۔تشريح: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ: دنیا میں تو اس طرح بسر کر گویا کہ تُو پر دیسی ہے یا راہ چلتا مسافر۔زیر باب حدیث میں دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ ایک مسافر کی زندگی سے بیان کیا گیا ہے۔جس طرح مسافر اپنے اصل وطن میں آکر حقیقی راحت پاتا ہے مؤمن کا سکون اور خوشی بھی آخرت میں ہی ہے۔مسافر دورانِ سفر اپنے آپ کو محل خطر میں سمجھتے ہوئے خوف زدہ ہوتا ہے ایک مؤمن بھی خشیت الہی سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمتع دنیاوی کا یہ حال تھا کہ ایک بار حضرت عمرؓ آپ سے ملنے گئے۔ایک لڑکا بھیج کر اجازت چاہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔جب حضرت عمر اندر آئے تو آپ اُٹھ کر بیٹھ گئے۔حضرت عمر نے دیکھا کہ مکان سب خالی پڑا ہے اور کوئی زینت کا سامان اس میں نہیں ہے۔ایک کھونٹی پر تلوار لٹک رہی ہے یا وہ چٹائی ہے جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے اور جس کے نشان اسی طرح آپ کی پشت مبارک پر بنے ہوئے تھے۔حضرت عمر اُن کو دیکھ کر رو پڑے۔آپ نے پوچھا: اے عمر ! تجھ کو کس چیز نے ر لایا؟ عمرؓ نے عرض کی کہ کسریٰ اور قیصر تو تنعم کے اسباب رکھیں اور آپ جو