صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 181
صحیح البخاری جلد ۱۵ IAI ۸۱ - کتاب الرقاق جاتے ہیں اور اگر کسی کا ظاہری انجام دنیاوی لحاظ سے بہتر لگتا بھی ہے تو آخرت میں جو اُن کا حساب کتاب ہونا ہے وہ صرف دنیاوی لہو و لعب میں پڑنے کی وجہ سے اور خدا تعالیٰ اور دین کا خانہ خالی چھوڑنے اور خالی ہونے کی وجہ سے اور اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔“ خطبہ جمعہ فرموده ۵/ مئی ۲۰۱۷ء، مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل ۲۶ مئی ۲۰۱۷ صفحه ۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو لوگ خدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور اپنے مالوں سے پیار کرتے ہیں وہ خدا کی نظر میں بد کار ہیں وہ ضرور ہلاک ہوں گے کیونکہ انہوں نے غیر کو خدا پر مقدم رکھا۔یہی وہ تیسرا مرتبہ ہے جس میں وہ شخص باخد ابنتا ہے جو اس کے لئے ہزاروں بلائیں خریدے اور خدا کی طرف ایسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئی اس کا نہ رہے گویا سب مر گئے۔“ نیز فرمایا: اسلامی اُصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ صفحه ۳۸۳) دنیا کی لذت خارش کی طرح ہے۔ابتداء لذت آتی ہے۔پھر جب کھجلا تا رہتا ہے تو زخم ہو کر اس میں سے خون نکل آتا ہے۔یہاں تک کہ اس میں پیپ پڑ جاتی ہے اور وہ ناسور کی طرح بن جاتا ہے اور اس میں درد بھی پیدا ہو جاتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ یہ گھر بہت ہی نا پائیدار اور بے حقیقت ہے۔مجھے کئی بار خیال آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی مردے کو اختیار دیدے کہ وہ پھر دنیا میں چلا جاوے تو وہ یقینا تو بہ کر اُٹھے کہ میں اس دنیا سے باز آیا۔(ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۷) بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: دنیا میں تو اس طرح بسر کر گویا کہ تو پر دیسی ہے یا راہ چلتا مسافر ٦٤١٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۴۱۶ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن عبد الرحمن ابو منذر طفاوی نے ہمیں بتایا۔انہوں