صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 180
صحیح البخاری جلد ۱۵ مَتَاعُ الْغُرُورِ (الحديد: ۲۱) ۱۸۰ ۸۱ - کتاب الرقاق انجام میں ایک سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور خوشنودی بھی ہے اور یہ ورلی زندگی سوائے دھو کے کے سامان کے اور کچھ نہیں۔٦٤١٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۴۱۵: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا انہوں نے أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَوْضِعُ بن سعد ساعدی) سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے فِيهَا وَلَعَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ تھے : جنت میں گوڑا رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے اور اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا۔أطرافه : ٢٧٩٤، ٢٨٩٢، ٣٢٥٠۔دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ریح:۔مَثَلُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ : آخرت کے مقابل میں دنیا کی مثال۔قرآن کریم اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی اس دنیا اور اس کے دھندوں کی نذر کرتا ہے تو یہ گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ مستقل اور دائمی زندگی کے مقابل پر عارضی اور نا پائیدار دنیا سے دل لگائے رکھنا بہت بڑا نقصان ہے یہ انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے غافل رکھتا ہے اس لیے دنیوی زندگی بھی تب زندگی کہلانے کے لائق ہے جب وہ آخرت کی تیاری کا موجب ہو جیسے فرمایا الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ (الأسرار المرفوعة فى الاخبار الموضوعة، حرف الدال، روایت نمبر ۲۰۵) کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔انَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِب وَ کھو : ورلی زندگی تو صرف کھیل و تماشا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ان دنیاوی چیزوں کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے یہ پھلنے پھولنے والی فصل کی طرح ہیں مگر آخر کو سوکھ کر چورا ہو جاتی ہیں اور تیز ہوائیں اس کو اُڑا کر لے جاتی ہیں۔اسی طرح دنیا داروں کا انجام ہوتا ہے۔نہ ان کے اموال کی کثرت، ان کے مال و دولت ان کے کام آتے ہیں۔نہ ان کی اولادیں ان کے کام آتی ہیں۔بعض تو اس دنیا میں ہی اپنے مال و اولاد سے محروم ہو