صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۷۹ - كتاب الرقاق مقابلہ پر اس مقام فانی کی نظیر پیش کرنا نظر کا گھاٹا ہے یا نہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلدا، حاشیہ صفحہ ۱۷۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” میرا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے اشغال چھوڑ دو۔ خدا تعالیٰ نے دُنیا کے شغلوں کو جائز رکھا ہے، کیونکہ اس راہ سے بھی ابتلا آتا ہے اور اسی ابتلا کی وجہ سے انسان چور ، قمار باز ، ٹھگ ، ڈکیت بن جاتا ہے اور کیا کیا بری عادتیں اختیار کر لیتا ہے، مگر ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ دنیوی مشغلوں کو اس حد تک اختیار کرو کہ وہ دین کی راہ میں تمہارے لیے مدد کا سامان پیدا کر سکیں اور مقصود بالذات اس میں دین ہی ہو۔ پس ہم دنیوی مشغلوں سے بھی منع نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کہتے کہ دن رات دنیا کے دھندوں اور بکھیڑوں میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کا خانہ بھی دُنیا ہی سے بھر دو۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ محرومی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے اور اس کی زبان پر نراد عویٰ ہی رہ جاتا ہے۔ الغرض زندوں کی صحبت میں رہو تا کہ زندہ خدا کا جلوہ تم کو نظر آوے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۵۲) باب ۲ : مَثَلُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ آخرت کے مقابل میں دنیا کی مثال وَقَوْلُهُ تَعَالَى أَنَّمَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ورلی زندگی تو صرف وَ لَهُوَ وَ زِينَةٌ وَ تَفَاخُرٌ بَيْنَكُمُ وَتَكَاثُرُ کھیل و تماشا اور بناؤ سنگھار اور آپس میں ایک فِي الْأَمْوَالِ وَ الْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی کثرت ہے۔ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ اس کی مثال بارش کی سی ہے جس کی روئیدگی فَتَرابَهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَ فِي کاشتکار کو بھاتی ہے۔ پھر اس کے بعد وہ سوکھنے لگتی الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنَ ہے تو تم اس کو زرد پڑا ہوا دیکھتے ہو ۔ پھر اس اللهِ وَرِضْوَانٌ وَ مَا الْحَيُوةُ الدُّنْيَا إِلَّا کے بعد وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور اس زندگی کے