صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۷۸ ۸۱ - كتاب الرقاق النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔ مِثْلَهُ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کی۔ أطرافه: ۳۷۹۷، ۴۰۹۸ تشريح : مَا جَاءَ فِي الرِّقَانِي : دل گداز باتوں کے متعلق جو آپ آیا ہے۔ علامہ بدر بدر الدین عینی لکھتے ؟ لکھتے ہیں بخاری کے نسخہ سرخسی میں اس باب کا عنوان الصَّحَةُ وَالْفَرَاغُ اور لا عيشَ إِلَّا عَيْشُ الآخِرَةِ ہے جبکہ بخاری کے نسخہ کریمہ میں عنوان باب ما جاء في الرِّقَاقِ وأَنْ لَا عَيشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ ہے۔ (عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۳۰) نِعْمَتَانِ مَغْبُونَ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصَّحَّةُ وَالْفَرَاعُ : امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں ”نعمت" اس منفعت کو کہتے ہیں جس میں کسی غیر کی طرف سے کوئی احسان ہوا ہو۔ اور مغبون کے معنی بیان کرتے ہوئے علامہ عینی لکھتے ہیں کہ اگر یہ لفظ غبن سے ہو تو اس کا معنی ہے بیچ : امعنی ہے بیچ میں نقصان۔ اور اگر یہ لفظ ”ب“ کی زبر کے ساتھ غبن ہو تو معنی رائے میں کمی کے ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۳۱) علامہ ابن الجوزی نے لکھا ہے کبھی انسان تندرست ہوتا ہے مگر وہ دنیا کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے اور عبادت کے لیے فارغ نہیں ہو تا لیکن بسا اوقات دنیاوی امور سے فراغت تو ہوتی ہے مگر صحت نہیں ہوتی اور اگر دونوں میسر ہوں یعنی صحت بھی ہو اور فراغت بھی اور انسان اس وقت کا صحیح استعمال نہ کرے تو نقصان یقینی ہے۔ التوضیح لابن ملقن، جلد ۲۹ صفحه ۳۹۹) زیر باب حدیث میں جو یہ فرمایا نِعْمَتَانِ مَعْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صحت اور فراغت انسان کے رأس المال کی طرح ہے۔ تجارت اس سمجھداری سے کرے کہ اس کا راس المال قائم رہے اور ق نفع حاصل ہو۔ اگر راس المال موجود ہے اور اس پر کوئی نفع نہ کمایا جائے تو یہ مال بے معنی ہے اس کے پڑے رہنے سے کیا فائدہ؟ بلکہ پڑے رہنے سے اس کے چوری ہونے، خراب ہونے اور ضائع ہونے کا امکان ہر وقت رہتا ہے۔ غین یعنی نقصان سے بچنا یہ ہے کہ رأس المال بھی قائم رہے اور نفع بھی حاصل ہو۔ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دنیا کو خدا نے ہمیشہ کے آرام کے لئے نہیں بنایا اور نہ ہمیشہ کے دُکھ کے لئے بنایا ہے بلکہ اس کی رنج و راحت دونوں گزرنے والی چیزیں ہیں اور ہر یک دور اس کا ختم ہونے والا ہے۔ لیکن دار آخرت وہ عالم ہے کہ جو راحت دائمی یا عقوبت دائمی کا مقام ہے جس کے لئے ہر یک دور اندیش آدمی آپ تکلیف اٹھاتا ہے اور خاتمہ بد سے ڈر کر بمشقت تمام طاعت الہی بجالاتا ہے۔ عیش و عشرت کو چھوڑتا ہے۔ شدت و صعوبت کو اختیار کرتا ہے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ اُس عالم جاودانی کے