صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 176
صحیح البخاری جلد ۱۵ 129 ۸۱ - کتاب الرقاق بسم الله الرحمن الرحيم ٨١ - كِتَابُ الرِّقَاقِ دل گداز باتوں کے متعلق کتاب امام بخاری کتاب الرقاق میں ایک سو ترانوے مرفوع احادیث لائے ہیں۔جن میں سے تینتیس تعلیقات اور ایک سو ساٹھ متصل استاد سے مروی ہیں ان میں سے ایک سو چونتیس مکرر اور انسٹھ غیر مکرر احادیث ہیں نیز صحابہ و تابعین کے سترہ آثار ہیں امام بخاری نے ان احادیث کو ۵۳ ابواب کے تحت مختلف عناوین سے بیان کیا ہے۔(فتح الباری، جزءا ا صفحه ۵۸۰) علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: لفظ رقاق رقیق کی جمع ہے اور یہ رقۃ سے ماخوذ ہے۔علامہ ابنِ سیدہ کہتے ہیں رقة کے معنے رحمت کے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے رقة، غلظہ کی ضد ہے۔صاحب التلویح نے کہا ہے کہ یہ لفظ الرقائق ہے بخاری کے نسخہ نسفی میں بھی اسے الرقائق بیان کیا گیا ہے اور یہ لفظ رقیقہ کی جمع ہے دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔بَابِ ١ : مَا جَاءَ فِي الرِّقَاقِ دل گداز باتوں کے متعلق جو آیا ہے (عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحه ۳۰) { الصّحَّةُ وَالْفَرَاغُ } وَأَنْ لَا عَيْشَ صحت اور فراغت کا ہونا اور ( آپ کا یہ فرمانا کہ) إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ۔آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔٦٤١٢: حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۶۴۱۲ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ عبد الله بن سعید نے جو کہ ابوہند کے بیٹے ہیں أَبِي هِنْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ روایت کی وہ کہتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت سے لوگ وَ قَالَ عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ گھاٹا کھا رہے ہیں۔صحت اور فراغت۔اور عباس یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری، جزء11، حاشیہ صفحہ ۲۷۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔