صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 174 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 174

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۷۴ ۸۰ - كتاب الدعوات بَاب ٦٩ : الْمَوْعِظَةُ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةِ وقتا فوقتا وعظ و نصیحت کرنا ٦٤١١: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا ۷۴۱۱: عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ میرے أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ حَدَّثَنِي باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم سے بیان کیا۔شَقِيقٌ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ إِذْ جَاءَ کہا: حقیق نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے: ہم حضرت يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قُلْتُ أَلَا تَجْلِسُ عبد اللہ بن مسعودؓ) کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے قَالَ لَا وَلَكِنْ أَدْخُلُ فَأَخْرِجُ إِلَيْكُمْ میں یزید بن معاویہ (کوفی ) آئے اور ہم نے کہا: کیا صَاحِبَكُمْ وَإِلَّا جِئْتُ أَنَا فَجَلَسْتُ آپ بیٹھیں گے نہیں ؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں اندر جاتا ہوں اور تمہارے ساتھی کو تمہارے پاس باہر فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذْ بِيَدِهِ فَقَامَ بھیجتا ہوں اور اگر وہ نہ آئے تو میں آجاؤں گا اور عَلَيْنَا فَقَالَ أَمَا إِنِّي أَخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ بیٹھوں گا۔پھر حضرت عبد اللہ باہر آئے اور وہ ان وَلَكِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ أَنَّ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور آکر ہمارے سامنے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: دیکھو میں خوب جانتا يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهِيَةَ تھا کہ تم یہاں موجود ہو مگر تمہارے پاس باہر آنے سے مجھے یہ بات روکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مقررہ دنوں میں ہمیں وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے کیونکہ آپ اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ ہم کہیں اکتانہ جائیں۔السَّامَةِ عَلَيْنَا۔أطرافه: ٦٨ ، ٧٠ - تشريح: الْمَوْعِظَةُ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ : وقا فوق وعظ و نصیحت کرنا۔اللہ تعالی کے نظام تعلیم میں ایک تدریج ہے۔اللہ تعالٰی انبیاء کو بھی ایک ہی دن میں سب کچھ نہیں سکھا دیتا بلکہ تدریجا سکھاتا ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے والے منکرین قرآن نے یہ اعتراض بھی کیا : وقالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ لَا نُزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةٌ وَاحِدَةٌ (الفرقان: ۳۳) اللہ تعالیٰ نے ۲۳ سال سے زائد عرصہ میں قرآن کریم نازل فرمایا اور یوں تدریجاً 1 فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں فقلتا ہے۔(فتح الباری جزءا ا حاشیہ صفحہ ۲۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیادہ کہیں گے کہ اس پر قرآن یک دفعہ کیوں نہ اُتارا گیا۔“ 66