صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 173 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 173

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۷۳ ۸۰ - كتاب الدعوات ے الفاظ ہیں جس نے ان کو شمار کیا۔اگر اسماء باری تعالیٰ کی کوئی حد اور بسط نہیں تو ان کو یاد یا محفوظ یا شمار کوئی کیسے کر سکتا ہے ؟ شارحین نے لکھا ہے کہ يحفظها اور احصاها سے مراد ان کی گنتی اور شمار نہیں بلکہ ان کی معرفت ہے۔اور یہ معرفت انسان کو ہر گناہ سے بچاتی ہے اور ہر نیکی کی تحریک کرتی ہے اور اس روحانی سفر میں انسان جون جوں ترقی کرتا جاتا ہے اس کا رفع الی اللہ ہوتا جاتا ہے۔اور بلا شرکت غیرے اس میں ہمارے سید و مولا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفعت کی ان بلندیوں میں پہنچے کہ ہفت افلاک کو پار کر کے سدرۃ المنتہی آپ کی منزل ٹھہری جہاں بشریت کی حد ختم ہوئی اور الوہیت کا سمندر سامنے ہے۔ان اسماء کے یاد کرنے سے یہ بھی مراد ہے کہ انسان ان صفات کا اپنے دائرے میں مظہر بنے اور انہی اسماء کو اپنی ضروریات کی مناسبت سے پکارے یعنی اسے زندگی کی بھیک مانگتی ہے تو می ذات کو پکارے اور قیام و استحکام کے لئے قیوم ذات اور مغفرت کے لئے غفور اور غفار ذات کے آگے دست سوال دراز کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اگر خدا تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا لحاظ نہ کیا جائے اور دُعا کی جائے تو وہ کچھ بھی اثر نہیں رکھتی۔صرف اس ایک راز کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ معلوم نہ کرنے کی وجہ سے دُنیا ہلاک ہو رہی ہے۔میں نے بہت لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ہم نے بہت دُعائیں کیں اور ان کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا۔اور اس نتیجہ نے اُن کو دہریہ بنا دیا۔بات اصل میں یہ ہے کہ ہر امر کے لیے کچھ قواعد اور قوانین ہوتے ہیں۔ایسا ہی دُعا کے واسطے قواعد و قوانین مقرر ہیں۔یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی، اس کا باعث یہی ہے کہ وہ ان قواعد اور مراتب کا لحاظ نہیں رکھتے جو قبولیت دعا کے واسطے ضروری ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب ایک لا نظیر اور بیش بہا خزانہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کو پاسکتا ہے اور لے سکتا ہے۔کیونکہ یہ کبھی بھی جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر خدامان کر یہ تجویز کریں کہ جو کچھ اس نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور جو ہمیں دکھایا ہے، یہ محض سراب اور دھوکا ہے۔ایسا و ہم بھی انسان کو ہلاک کر سکتا ہے۔نہیں، بلکہ ہر ایک اس خزانہ کو لے سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کمی نہیں۔وہ ہر ایک کو یہ خزانے دے سکتا ہے پھر بھی اس میں کمی نہیں آسکتی۔“ ل التوضيح لشرح الجامع الصحیح، جزء ۲۹ صفحه ۳۸۷) ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۷۸،۲۷۷)