صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 172 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 172

صحیح البخاری جلد ۱۵ باب ٦٨ : لِلَّهِ مِائَةُ اسْمِ غَيْرَ وَاحِدَةٍ اللہ کے ایک کم سو نام ہیں ۸۰- كتاب الدعوات ٦٤١٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۶۴۱۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ أَبِي که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: ہم نے اس الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حدیث کو ابوالزناد سے (سن کر) یا درکھا۔ابوالزناد رِوَايَةً قَالَ لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْما نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے - مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدَةً – لَا يَحْفَظُهَا أَحَدٌ روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے ننانوے نام - ہیں یعنی ایک کم سو۔جو کوئی بھی انہیں یاد رکھے گا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ تو وہ ضرور ہی جنت میں داخل ہو گا اور وہ (اللہ ) طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔أطرافه: ۲۷۳۶، ۷۳۹۲۔ریح : لِلهِ مِائَةُ اسْم غَيْرَ وَاحِدَةٍ: اللہ کے ایک کم سو نام ہیں۔ایک کم سو یعنی 99 ناموں سے کیا مراد ہے اور یہ اسماء پورے ۱۰۰ کیوں نہیں، ایک کم کیوں ہے ؟ اس کا ایک یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ طاق عدد مراد ہے۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۲۶۵) در اصل اس طرز بیان سے مقصود یہ ہے کہ یہ عدد یہاں ختم نہیں ہو گیا بلکہ جاری وساری ہے اور یہ سمجھایا گیا ہے کہ ۱۰۰ کہنے سے یہ تاثر بنتا ہے کہ عدد مکمل ہو گیا اور بس۔جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات جس طرح لا محدود ہے اسی طرح اس کے اسماء جو دراصل اس کی صفات ہیں وہ بھی لا محدود اور لامتناہی ہیں اور انسان ان کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ لَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامُ وَالْبَحْرُ يَمُدُّ وَمِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ ابْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (لقمان: ۲۸) اور دوسری جگہ فرمایا: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدان (الكهف:۱۱۰) پس انسان اس لا محدود ہستی کے اسماء اور صفات کا شمار کہاں کر سکتا ہے۔اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیر باب حدیث میں ذکر ہے: لا يخفظهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔اور بعض روایات میں من احصاها کے ل ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” اور زمین میں جتنے درخت ہیں اگر سب قلمیں بن جائیں اور سمندر (روشنائی ہو جائے اور ) اس کے علاوہ سات سمندر بھی اس کی مدد کریں تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے یقینا اللہ کامل غلبہ والا (اور) صاحب حکمت ہے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " کہہ دے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی بن جائیں تو سمندر ضرور ختم ہو جائیں گے پیشتر اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں خواہ ہم بطور مد داس جیسے اور (سمندر) لے آئیں۔“