صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 170
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۷۰ ۸۰ - كتاب الدعوات جَلِيسُهُمْ۔قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ ہوتی تو وہ اس سے بھی زیادہ اس کی حرص کرتے اور مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً قَالَ اس سے بھی زیادہ اس کی تلاش کرتے اور اس سے فَيَقُولُ فَأَشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ بھی بڑھ کر اس کے خواہاں ہوتے۔اللہ فرماتا ہے: لَهُمْ قَالَ يَقُولُ مَلَكٌ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرمایا، فرشتے کہتے فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ ہیں: آگ سے۔فرمایا، وہ فرماتا ہے: اور کیا انہوں لِحَاجَةٍ قَالَ هُمُ الْجُلَسَاءَ لَا يَشْقَى نے اس آگ کو دیکھا ؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: نہیں، اللہ کی قسم! اے رب، انہوں نے اس کو نہیں دیکھا۔کہتے تھے، وہ فرماتا ہے: اگر اس کو دیکھا ہوتا تو کیا کیفیت ہوتی؟ فرمایا، فرشتے کہتے ہیں: اگر تو دیکھی ہوتی تو اور زیادہ اس سے بھاگتے اور بہت سخت ڈرتے۔فرمایا، تو وہ فرماتا ہے: میں تم کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے ان کے گناہوں پر پردہ پوشی کرتے ہوئے ان سے درگزر کر دیا۔فرمایا، فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہے گا: ان میں فلاں بھی ہے جو ان میں سے نہیں ہے مگر صرف کسی کام کے لئے آیا تھا۔فرمائے گا: وہ ایسے بیٹھنے والے ہیں کہ ان کا ہم نشین بد نصیب نہیں ہوتا۔رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَرْفَعُهُ شعبہ نے بھی اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا وَرَوَاهُ سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اور اس کو مرفوعا بیان نہیں کیا۔اور سہیل نے بھی عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو روایت کیا۔