صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 168
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۶۸ ٨٠ - كتاب الدعوات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي المِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ : سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ العَظِيمِ ( بخاری جلد ۴ کتاب الایمان والندور ) دو کلمے ایسے ہیں کہ بولنے کے لحاظ سے تو بہت ہلکے پھلکے ہیں مگر نتیجہ کے لحاظ سے بہت بھاری ہیں اور رحم اور رحمن کو بہت لو بہت ہی پیارے ہیں اور وہ اور وہ یہ ہیں: سُبْحَانَ الله وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ الله العظيم ۔ اس حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات ایجابیہ کا ذکر کرتا ہے وہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر کے ان کے مقابل کی الہی صفات کو اپنے پر وارد کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات کا مستحق ہو جاتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد اول صفحہ ۲۸۴ تا ۲۸۷) باب ٦٦ : فَضْلُ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اللہ عز و جل کے ذکر کی فضیلت ٦٤٠٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۶۴۰۷ : محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبد اللہ سے، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ برید نے ابوبردہ سے ، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثل الحي اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور وہ جواپنے رب کا ذکر کرتا ایسے ہی ہے جیسے زندہ اور مردہ وَالْمَيِّتِ۔ کی۔ ٦٤٠٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۶۴۰۸ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے ، اعمش صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ کے فرشتے راستوں میں