صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 167 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 167

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات خَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي روایت کی۔آپ نے فرمایا: دو کلمے ہیں جو زبان پر الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ ہلکے ہیں، میزان میں بھاری ہیں، رحمن کو پیارے اللَّهِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ۔ہیں۔سُبحان الله العَظِيمِ ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ - یعنی پاک ہے اللہ جو بہت عظمت والا ہے، پاک أطرافه: ٦٦٨٢، ٧٥٦٣ - ہے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ۔شریح: فَضْلُ التَّسْبِيح: سبحان اللہ کہنے کی فضیلت۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " قرآن کریم خدا تعالیٰ کی صفت تسبیح کے ساتھ تحمید اور تقدیس کا بھی ذکر کرتا ہے جو امر اسے دوسری کتب سے ممتاز کرتا ہے۔تسبیح میں صرف تنزیہ آتی ہے یعنی اس کے نقصوں سے پاک ہونے کا ذکر آتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس قدر بیان صفات الہیہ کا اعلیٰ درجہ کے متفکر انسان کے لئے کافی نہیں۔کامل دماغ کے لئے صفات تنزیہیہ کے ساتھ صفات حقیقیہ مثبتہ کا اظہار بھی ضروری ہے۔ہم اگر کسی شئے کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسی بھی نہیں اور دیسی بھی نہیں تو بے شک اسے انسانی دماغ کے قریب تو کر دیتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کو پوری طرح واضح نہیں کرتے۔قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس نے تسبیح کے ساتھ تحمید پر زور دیا ہے اور خد اتعالیٰ کو نفی کے ساتھ روشناس نہیں کرایا بلکہ اس کی صفات حمد اور تقدیس پر خاص زور دیا ہے۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق صفات ایجابیہ پر غور اور ان سے فائدہ اُٹھانے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جو صرف تسبیح کرتا ہے وہ صرف اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک بالا ہستی ہے مگر جو اس کی تحمید کرتا ہے وہ اسے ایک زندہ اور فعال خدا ثابت کرتا ہے اور اس کی صفات سے خود فائدہ اُٹھا تا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔۔۔مسلمانوں کو قرآن کریم میں۔۔۔سب جگہ تسبیح کے ساتھ حمد الہی کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خالی صفات سلبیہ پر زور نہ دیا کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات سے فائدہ اُٹھانے کا موقعہ نہیں ملتا بلکہ اس کے ساتھ حمد کو شامل کیا کرو تا کہ ایصال خیر کی صفات سے تم کو فائدہ پہنچے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ